اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
باوجودوہاں سے واپسی پروہ کافی اداس تھا… آخراس کے ذہن میں ایک نیاخیال آیا،وہ یہ کہ ’’میدان جنگ سے تواگرچہ مجھے میری کمسنی کے باعث لوٹادیاگیا،لیکن کیوں نہ میں دینِ اسلام کی سرکی بلندی کی خاطر ٗنیزپیغمبرِاسلام کی خدمت اورصحبت ومعیت کے شرف سے ہمکنارہونے کی خاطر…میدانِ جنگ کی بجائے کوئی دوسرامیدان تلاش کروں،جہاں عمرکامسئلہ آڑے نہ آئے،اورمیری یہ کمسنی رکاوٹ نہ بن سکے…‘‘ آخرغوروفکرکے بعداس نے یہ فیصلہ کیاکہ ’’میدانِ جنگ‘‘کی بجائے ’’علم ومعرفت‘‘کے میدان میں دینِ اسلام کی خدمت کافریضہ سرانجام دیاجائے،اوراس مقصدکیلئے اس نے سوچاکہ ’’میں شب وروزرسول اللہﷺکی خدمت میں رہوں گا،آپؐ کے روزانہ کے معمولاتِ زندگی میں آپؐ کی خدمت بھی انجام دوں گا،نیزاٹھتے بیٹھتے ہمہ وقت آپؐ سے اللہ کے دین کاعلم بھی حاصل کرسکوں گا‘‘ تب اس نے اپنی ماں کے سامنے اپنی اس نئی خواہش کااظہارکیا،ماں نے جب بیٹے کی زبانی یہ بات سنی تواسے بے حدمسرت ہوئی ،اوراسے یہ بات بہت زیادہ پسندآئی،لیکن پھرجلدہی وہ یہ سوچ کرپریشان ہونے لگی کہ کہیں اس باربھی رسول اللہﷺاس کے لختِ جگرکوواپس نہ لوٹادیں…لہٰذااس باراس خاتون نے اپنے خاندان کے ایک معززشخص کوبھی اپنے ہمراہ لیا،اوریوں یہ تینوں افرادایک روزرسول اللہﷺکی خدمتِ اقدس میں حاضرہوئے،اوروہاں پہنچنے کے بعدنہایت ہی ادب کے ساتھ عرض کیا’’اے اللہ کے رسول! یہ ہمارابچہ ہے’’زیدبن ثابت‘‘اللہ کی کتاب میں سے سترہ سورتیں اسے زبانی یاد ہیں، نیزیہ کہ یہ وہ سترہ سورتیں بالکل اسی طرح درست پڑھتاہے جس طرح اللہ کی طرف