اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
اتنی بڑی آزمائش میں پھنس گیاتھا)
اس پررسول اللہﷺنے جواب میں یوں ارشادفرمایا: أمْسِک عَلَیکَ بَعضَ مَالِکَ ، فَھُوَ خَیرٌ لَکَ … یعنی’’اپناکچھ مال اپنے لئے بھی سنبھال کررکھو،اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے‘‘۔
(یعنی پورامال صدقہ کردینے کی بجائے کچھ صدقہ کردو،اورکچھ اپنے لئے رکھ لو،تاکہ کل تمہارے کام آسکے)۔
چنانچہ آپؐ کے اس ارشادپرعمل کرتے ہوئے حضرت کعب بن مالکؓ نے اپناکچھ مال فی سبیل اللہ صدقہ کردیا،جبکہ کچھ مال اپنے لئے رکھ لیا۔(۱)
------------------------------
(۱) اس سے یہ بات واضح وثابت ہوتی ہے کہ انسان کوجب بھی اللہ کی طرف سے کوئی نعمت ٗکوئی خوشی ٗ کوئی بہتری کوئی ترقی نصیب ہوتواسے چاہئے کہ اس منعم ومحسن کے ساتھ اپناتعلق مزیدمضبوط ومستحکم کرے،اس کی اطاعت وفرمانبرداری کی مزیدفکروجستجوکرے۔نیزیہ کہ بطورِشکراس کی راہ میں کچھ صدقہ وخیرات بھی کرے…جس طرح حضرت کعب بن مالکؓ نے اس خوشی کے موقع پراللہ کی راہ میں اپنامال صدقہ کرنے کی خواہش کااظہارکیا،جس کے جواب میں رسول اللہﷺنے انہیں اس چیزسے منع نہیں فرمایا،بلکہ اس کی اجازت دی۔
(۲) نیزحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ودیگردونوں حضرات (ہلال بن امیہ اورمرارۃ بن الربیع رضی اللہ عنہما)کے ساتھ پیش آنے والے اس تاریخی واقعے میں تمام دنیائے انسانیت اوربالخصوص امتِ مسلمہ کیلئے تاقیامت جواہم ترین سبق اورپیغام پوشیدہ ہے،وہ ہے’’صدق کی فضیلت واہمیت‘‘کیونکہ ان تینوں حضرات کواس موقع پر’’سچ‘‘بولنے کی بدولت ہی یہ عظیم مقام ومرتبہ نصیب ہوا،جبکہ بڑی تعدادمیں منافقین نے اس موقع پرجھوٹ بول کروقتی طورپراگرچہ جان توچھڑالی،لیکن اللہ کی عدالت میں ان کاکیابنے گا؟
اس سے یہی بات واضح ہوئی کہ ’’سچ‘‘کادامن تھامے رکھنے میں ہی انسان کیلئے دونوں جہانوں میں صلاح وفلاح کااورنجات کارازپوشیدہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ سورۃ توبہ کی یہ آیات جن میں ان تینوں حضرات کی قبولیتِ توبہ کاتذکرہ ہے ،ان آیات کے فوری بعداگلی ہی آیت میںاہلِ ایمان کو’’سچ‘‘کادامن تھامے رکھنے کی تاکیدوتلقین کی گئی ہے: {یَاأیّھَا اللّذینَ آمنوا اتّقُوا اللّہَ وَکُونُوا مَعَ الصّادِقِین} (سورہ توبہ:۱۱۹)