اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
اس کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺسے دریافت کیا’’اے اللہ کے رسول!یہ ہماری توبہ کی قبولیت کی خوشخبری آپ کی طرف سے ہے؟یااللہ عزوجل کی طرف سے ہے؟‘‘(۱) اس پرآپؐ نے ارشادفرمایا’’یہ خوشخبری اللہ کی طرف سے ہے‘‘ رسول اللہ ﷺکی زبان مبارک سے یہ جواب سننے کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرطِ مسرت سے مزیدجھوم جھوم اٹھے…اوربے اختیارآپؐ کی خدمت میں یوں عرض کرنے لگے’’اے اللہ کے رسول!اللہ کی طرف سے میرے لئے اس اتنی بڑی نعمت(یعنی قبولیتِ توبہ کی خوشخبری)کااب تقاضایہ ہے کہ اب میں اپناتمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کردوں‘‘ (یعنی چونکہ اپنے اس دنیاوی مال واسباب سے متعلق مسائل ومصروفیات کی وجہ سے ہی میں اس غزوے سے پیچھے رہ گیاتھا،یہی مال میرے لئے اتنی بڑی آزمائش کاسبب بنا،اوراب اللہ کی طرف سے یہ اتنی بڑی خوشخبری آئی ہے،لہٰذامیں چاہتاہوں کہ اس خوشی کے موقع پربطورِشکراس تمام مال واسباب کواللہ کی راہ میں صدقہ کردوںکہ جس میں الجھ کرمیں اس ------------------------------ (۱) غورطلب ہے یہ بات کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کواتنی بڑی پریشانی اورطویل آزمائش کے بعداب یہ اس قدرعظیم خوشخبرینصیب ہوئیتھی…لیکن اس کے باوجودیہ فکردامن گیرتھی کہ نہ جانے یہ خوشخبری اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ہے یانہیں؟ کیونکہ اگریہ خوشخبری اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ہے تویہ چیزمزیدمسرت اوربڑے اعزازکاباعث ہوگی۔نیزیہ کہ اسی صورت میں ہی نجات کااصل اورحقیقی سامان ہوسکے گا…بصورتِ دیگراگرمحض رسول اللہﷺنے اپنی طرف سے ان تینوں کی حالت پررحم کھاتے ہوئے انہیں یہ خوشخبری سنادی ہو…توپھراللہ کے سامنے کیابنے گا…؟لہٰذااس بارے میں مکمل اطمینان اورتسلی کی غرض سے حضرت کعب بن مالکؓ نے یہ استفسارکیاکہ ’’اے اللہ کے رسول!یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے ؟یااللہ عزوجل کی طرف سے؟‘‘