اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
٭… انصارِمدینہ سے تعلق رکھنے والے یہ جلیل القدرصحابی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ہجرتِ مدینہ سے کچھ قبل یعنی نبوت کے تیرہویں سال ’’بیعتِ عقبہ ثانیہ‘‘کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے،یوں یہ ان عظیم ترین اورانتہائی خوش نصیب انسانوں میں سے تھے جن کی طرف سے اس بیعت کے موقع پردعوت اورپرزوراصرارکے نتیجے میں ہی رسول اللہ ﷺودیگرمسلمانوں کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کایادگارواقعہ پیش آیاتھا،اورپھریہی واقعۂ ’’ہجرتِ مدینہ‘‘ ہی روئے زمین پراولین اسلامی ریاست کے قیام کا ٗاوربہت ہی وسیع پیمانے پرمشرق ومغرب میں چہارسواسلامی فتوحات کاپیش خیمہ ثابت ہواتھا… ہجرتِ مدینہ سے چندماہ قبل دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے دینِ برحق قبول کرنے کے بعدسن ۹ہجری میں غزوۂ تبوک کے تاریخی موقع پر حضرت کعبؓ اتنی بڑی آزمائش سے دوچار ہوئے ،اورپھربتوفیقِ الٰہی ’’سچ‘‘کادامن تھامے رکھنے کی وجہ سے ان کیلئے من جانب اللہ قبولیتِ توبہ کااعلان ہوا… اس کے بعدوقت کاسفرجاری رہا…رسول اللہﷺکامبارک دورگذرجانے کے بعد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خلفائے راشدین کادوربھی دیکھا،آخری عمرمیں یہ مدینہ سے ملکِ شام منتقل ہوگئے تھے،جہاں انہوں نے مستقل رہائش اختیارکرلی تھی ، آخروہیں ملکِ شام میں ہی ۵۰ھمیں ۷۷سال کی عمرمیں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اس دنیائے فانی سے کوچ کرتے ہوئے اپنے اللہ سے جاملے۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلندفرمائیں۔ ------------------------------ الحمدللہ آج بتاریخ یکم/ربیع الثانی ۱۴۳۶ھ ، مطابق۲۱/جنوری ۲۰۱۵ء بروزبدھ یہ باب مکمل ہوا۔ رَبَّنَا تَقَبَّل مِنَّا اِنّکَ أنتَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ، وَتُب عَلَینَا اِنَّکَ أنتَ التَوَّابُ الرَّحِیمُ