اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس جمعِ غفیرمیں سے گذرتے ہوئے آخررسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضرہوئے،ان یادگارترین لمحات کی منظرکشی کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں: فَلَمّا سَلّمتُ عَلَیٰ رَسُولِ اللّہِ ﷺ وَھُوَ یَبرُقُ وَجھُہ مِنَ السُّرُور… وَکَانِ اِذا سُرّ استِنَارَ وَجھُہ کأنّہٗ قِطعَۃُ قَمَر ، وَکُنّا نَعرِفُ مِنہُ ذلِک … یعنی’’میں نے جب رسول اللہﷺکی خدمت میں سلام عرض کیا ٗاُس وقت آپؐ کارُخِ انورفرطِ مسرت کی وجہ سے چمک رہاتھا…آپؐ جب کبھی مسرورہوتے توآپؐ کارُخِ انوراس طرح چمک اٹھتاتھاجیسے چاندکاٹکڑاہو…آپؐ کے اس مزاج سے ہم سبھی خوب واقف تھے‘‘
اورپھر سلام ودعاء کے اس سلسلے کے بعدرسول اللہﷺنے حضرت کعب بن مالکؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا: أبْشِر بِخَیرِ یَومٍ مَرَّ عَلَیکَ مُنذُ وَلَدَتکَ أُمُّکَ یعنی’’اے کعب!تمہاری پیدائش کے بعدسے ابتک آج کایہ دن تمہارے لئے سب سے بہترین دن ہے‘‘(۱)
------------------------------
(۱) کیونکہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ودیگردونوں حضرات (ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ،نیز:مرارۃ بن الربیع رضی اللہ عنہ)کی قبولیتِ توبہ کی خبربذریعۂ وحی دی گئی،اس بارے میں قرآنی آیات نازل ہوئیں {وَعَلَیٰ الثّلَاثَۃِ اللّذینَ خُلِّفُوا … }(سورہ توبہ،آیتـ:۱۱۸) یہ قرآنی آیات اہلِ ایمان تاقیامت پڑھتے رہیں گے دنیاکے کونے کونے میںمسجدوں میں ٗمحرابوں میں ٗگھروں میں ٗمسلمان تلاوتِ قرآن کے دوران یہ آیات بھی پڑھیں گے…اورثوابِ دارین کے مستحق قرارپائیں گے…یوں ان تینوں حضرات کاقصہ اوران کاتذکرہ قیامت تک کیلئے محفوظ ہوگیا،نیزاہلِ ایمان کیلئے موجبِ ِ اجروثواب اورباعثِ خیروبرکت بن گیا(بلکہ اس سورت کانام ’’توبہ‘‘اسی واقعے کی وجہ سے معروف ہوا) لہٰذاان تینوں حضرات کیلئے ان کی تمام زندگی میں آج کادن یقیناسب سے زیادہ مبارک اوربہترین تھا۔