اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
اس موقع پران کے اس والہانہ اندازکے بارے میںحضرت کعبؓ کے بیٹے عبداللہ اپنے والدکے بارے میں کہتے ہیں: کَان لَایَنسَاھَا لِطَلحَۃ یعنی’’اس موقع پرطلحہ کے اس اندازکومیرے والدزندگی بھرہمیشہ یادکرتے رہے‘‘(۱)
٭…حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اُس موقع پرمسجدنبوی میں موجودحضرات صحابۂ
------------------------------
(۱)حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس موقع پراس قدرگرمجوشی اوروالہانہ اندازکے اظہار پر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جواس قدرمتأثرہوئے اس کی متعددوجوہات تھیں،مثلاً یہ کہ:
(الف)وہ موقع بہت زیادہ یادگاراورجذباتی تھا،لہٰذااس جذباتی موقع پرحضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کایہ جذباتی اندازہمیشہ کیلئے یادگاربن گیا۔
(ب)اس معاشرے میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی بڑی حیثیت تھی ،مکی دورمیں بھی ،اورپھرمدنی دورمیں بھی،وہ السابقین الاولین ٗنیزعشرہ مبشرہ میں سے بھی تھے،لہٰذااس قدراہم ترین شخصیت کی طرف سے اس والہانہ اندازکی اپنی جگہ بڑی اہمیت تھی۔
(ج) حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سے تھے،جبکہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ انصارِمدینہ میں سے تھے،اگرچہ اُس مثالی اورہرقسم کے تعصب سے پاک معاشرے میں مہاجرین وانصارمیں کوئی تفریق نہیں تھی،وہ باہم شیروشکرتھے…لیکن بہرحال یہ حقیقت تواپنی جگہ موجودتھی کہ’’ مہاجرین‘‘ کاتعلق مکہ سے تھا، جبکہ ’’ انصار‘‘ مدینہ کے باشندے تھے،لہٰذامہاجرین میں سے ہونے کے باوجودایک انصاری کیلئے اس قدرگرمجوشی اور والہانہ اندازاختیارکرنا…اس چیزنے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کوبطورِخاص بہت زیادہ متأثرکیا۔
(د) بہت سے علماء ومؤرخین نے اس موقع پر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے اس والہانہ اندازکے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے یہ امکان بھی ظاہرکیاہے کہ شایداس کی وجہ یہ ہوکہ ہجرتِ مدینہ کے فوری بعدرسول اللہ ﷺ نے مہاجرین وانصارمیں ’’مؤاخات‘‘کاجومثالی اورمبارک رشتہ قائم فرمایاتھا،اوراس طرح انہیں باہم ایک لڑی میں پرودیاتھا…تب آپؐ نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اورحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کوایک دوسرے کابھائی بنایاتھا…لہٰذاہوسکتاہے کہ حضرت کعبؓ کی قبولیتِ توبہ کے اس یادگارموقع پر اسی ’’رشتۂ مؤاخاۃ‘‘ کی وجہ سے فطری طورپرحضرت طلحہ رضی اللہ عنہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کیلئے اس قدرجذباتی ہوگئے تھے۔
واللہ أعلم۔