اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
اس کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ مسجدنبوی پہنچے جہاںاُس وقت رسول اللہﷺتشریف فرماتھے،نیزآپؐ کے اردگردبڑی تعدادمیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی موجودتھے،ان تمام حضرات میں سب سے پہلے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکرنہایت گرمجوشی کے ساتھ حضرت کعبؓ کااستقبال کیا،مصافحہ کیا،اوربڑی مسرت کااظہارکرتے ہوئے پرتپاک اندازمیں انہیں مبارکبادپیش کی … ------------------------------ باقی ازحاشیہ صفحہ گذشتہ: اس کے بعدمزیدیہ کہ اس یادگارموقع پرصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کااتنی بڑی تعدادمیںفوج درفوج وہاں جمع ہونا،اورانتہائی والہانہ اورپرجوش اندازمیں حضرت کعبؓ کومبارکبادپیش کرنا،ان کی اس خوشی کواپنی خوشی سمجھنا…ہرکوئی اس موقع پر انتہائی بیتاب اوربے قرار تھاکہ جلدازجلدخوب گرمجوشی کے ساتھ انہیں مبارکبادپیش کرسکے،گویایہ حضرات ارشادِربانی’’انمالمؤمنون اخوۃ‘‘یعنی ’’تمام مؤمن بھائی بھائی ہیں‘‘ نیزفرمانِ نبوی ’’لایؤمن أحدکم حتیٰ یحب لأخیہ مایحب لنفسہٖ‘‘یعنی ’’تم میں سے کوئی شخص حقیقی مؤمن نہیں ہوسکتاتاوقتیکہ وہ اپنے (مسلمان)بھائی کیلئے بھی وہی چیزپسندکرنے لگے جوچیزوہ خوداپنے لئے پسندکرتاہے‘‘کی عملی تفسیراورجیتی جاگتی تصویرتھے۔ یقینا اس میں ہمارے لئے بھی یہ بہت اہم سبق ہے کہ اگرکسی کوکوئی نعمت یاخوشی نصیب ہوتوہمیں اس کی خوشی کواپنی خوشی سمجھناچاہئے،اس پراظہارِمسرت کرتے ہوئے خوب گرمجوشی کے ساتھ اسے مبارکبادپیش کرنی چاہئے… بلکہ اس سے بھی بڑھ کریہ کہ ہمیں خودموقع کی تلاش اورجستجومیں رہناچاہئے کہ کسی طرح ہم کوئی ایساکام کرسکیں جودوسروں کیلئے باعثِ مسرت بن سکے۔ نیزاس واقعے سے یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ جوکوئی خوشخبری لایاہو،اسے حسبِ توفیق اورمناسبِ حال کوئی ہدیہ ٗ تحفہ ٗ یاانعام وغیرہ سے نوازاجائے،ورنہ کم ازکم یہ کہ اس کیلئے دعائے خیرکی جائے ،خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جائے… تاکہ اس طرح اس کے احسان کابدلہ احسان سے دیاجاسکے،نیزاس بات کاعملی اظہارہوسکے کہ ہمیں اس کے اس اقدام اوراس جذبے کی خوب قدر اوراحساس ہے…نیزیہ کہ جس طرح وہ ہماراخیرخواہ ہے(تبھی توخوشخبری لایاہے)بعینہٖ اسی طرح ہمارے دل میں بھی اس کیلئے خیرخواہی کے جذبات موجزن ہیں۔