اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
سب سے پہلے اُسی شخص کے ذریعے پہنچی،لہٰذاجب وہ ان تک پہنچاتوانہوں نے فرطِ مسرت کی وجہ سے ٗاوراپنے جذبات سے مغلوب ہوکر ٗاپناوہ لباس جواس وقت انہوں نے پہن رکھا تھا… بطورِانعام اس شخص کودے دیا…اورخودپڑوسیوں سے دوسرے کپڑے مانگ کر پہن لئے… مقصدیہ کہ اُس وقت فوری طورپرانہیںجوکچھ میسرتھاوہ اس خوشخبری لانے والے کوبطورِ انعام پیش کردیا،کیونکہ وہ اس قدرعظیم خوشخبری لایاتھاکہ اسے انعام دینے میںذرہ برابر تاخیر انہیں گوارانہیں تھی۔ اورپھرجب اس گھڑسوارقاصدنے بھی یہی خوشخبری سنائی تویہ چیزحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کیلئے مزیدمسرت کاباعث بنی ،نیزاس موقع پراس قاصدنے یہ پیغام بھی پہنچایا کہ ’’اے کعب!رسول اللہﷺمسجدمیں آپ کویادفرمارہے ہیں‘‘تب حضرت کعبؓ فوری طورپرمسجدکی جانب روانہ ہوگئے،چونکہ یہ خبربڑی سرعت کے ساتھ تمام شہرمدینہ میں پھیل چکی تھی، لہٰذااس موقع پرانہیں مبارکبادپیش کرنے کی غرض سے ان کے گھرسے مسجدتک پورے راستے میں دونوں جانب لوگوں کابہت بڑاجمعِ غفیراکٹھاہوچکاتھا،ہرطرف سے لوگ امڈتے چلے آرہے تھے،کیونکہ ظاہرہے کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کیلئے یہ بہت ہی عظیم شرف اوربڑااعزازتھاکہ ان کی قبولیتِ توبہ کے بارے میں باقاعدہ قرآن کریم کی آیات نازل ہوئی تھیں…جوکہ اہلِ ایمان تاقیامت پڑھتے رہیں گے…(۱) ------------------------------ (۱) یہ بات قابلِ غورہے کہ حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جوکہ رسول اللہ ﷺکے تربیت یافتہ تھے،ان حضرات کے دلوں میں باہم ایک دوسرے کیلئے کس قدرخلوص ومحبت کے جذبات موجزن تھے کہ جس شخص کے علم میں سب سے پہلے یہ خوشخبری آئی ٗ وہ ازخودفوری طور’’ابشریاکعب بن مالک‘‘کی صدائیں لگاتاہوا مسجد نبوی سے حضرت کعب بن مالکؓ کے گھرکی جانب رواں دواں ہوگیا… (باقی حاشیہ آئندہ صفحے پر…)