اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
’’جب دس دن مزیدگذرگئے(یعنی چالیس دن پہلے…اوراب مزیددس دن ،یوں جب کُل پچاس دن گذرچکے)توایک روزجب میں اپنے گھرکی چھت پرنمازِفجرپڑھنے کے بعد بیٹھاہواتھا(۱)تواچانک مجھے کسی کی آوازسنائی دی ،جوبآوازِبلندیوں پکاررہاتھا: یا کعب بن مالک أبشِر… یعنی’’اے کعب بن مالک !آپ کیلئے بڑی خوشخبری ہے…‘‘تب میں فوراًہی اللہ کے سامنے سجدہ ریزہوگیا،اورمیں سمجھ گیاکہ میرے لئے اس آزمائش سے نجات کاوقت اب آچکاہے(یعنی انہوںنے سوچاکہ باقی تمام تفصیل بعدمیں پتہ چلتی رہیگی،فی الحال فوری طورپربس اللہ کے سامنے سجدہ ریزہوگئے)‘‘ عین اسی وقت تین الگ الگ گھڑسواربھی خوشخبری لئے ہوئے مسجدنبوی سے اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے،ایک کعب بن مالک کے گھرکی طرف ،دوسراہلال بن امیہ ٗ اورتیسرامرارۃ بن الربیع (رضی اللہ عنہم اجمعین)کے گھرکی طرف… چنانچہ تھوڑی ہی دیرمیں وہ گھڑسوارکعبؓ کے گھرجاپہنچا…لیکن وہ شخص جوکہ پہلے ہی بڑی ہی بے چینی اوربے قراری کے عالم میں دورسے ہی پکارتاہوا …اوربآوازِبلند یا کعب بن مالک أبشر… کی صدالگاتاہواپیدل چلاآرہاتھا…اس کی یہ صدااُس گھڑسوار سے پہلے پہنچ گئی تھی،اوریوں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ تک یہ عظیم ترین خوشخبری ------------------------------ (۱) یعنی ابتداء میں توکافی دنوں تک کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ہرنمازمسجدمیں حاضرہوکرسبھی مسلمانوں کے ساتھ باجماعت اداکرتے رہے،لیکن جب وہاں مسجدمیں ٗنیزآمدورفت کے دوران تمام راستے میں کوئی ان سے سلام وکلام نہ کرتا…حتیٰ کہ ان کے چچازادبھائی نے بھی ان کے سلام کاجواب تک نہیں دیا،تویہ چیزان کیلئے مزیدصدمے کاباعث بننے لگی…جب بھی یہ گھرسے باہرنکلتے اوریہی صورتِ حال پیش آتی ،تو صدمہ تازہ ہوجاتا… تب انہوں نے آخری دنوں میں گھرسے نکلناچھوڑدیا،نمازبھی گھرمیں ہی پڑھنے لگے۔اورتب ایک روزنمازِفجرکے بعدجب یہ اپنے گھرکی چھت پربیٹھے ہوئے تھے توایسے میںیہ واقعہ پیش آیا…