اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
حضرت کعب بن مالکؓ مزیدفرماتے ہیں’’یہ خط پڑھتے ہی میری زبان سے بے اختیاریہ الفاظ نکلے: وھٰذہٖ مِن البَلَاء… یعنی’’اب یہ ایک اورآزمائش آکھڑی ہے‘‘تب میں نے فوراًہی بغیرکسی تاخیرکے اس خط کووہاںقریب ہی موجود ایک تندورمیں پھینک دیا‘‘(۱) ٭…اس کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ مزیدفرماتے ہیں: ------------------------------ حاشیہ صفحہ گذشتہ: (۱)یہاں یہ بات قابلِ غورہے کہ اہلِ حق کوراہِ حق سے برگشتہ کرنے کی غرض سے اہلِ باطل کس طرح ہمہ وقت نظررکھتے ہیں ،موقع کی تلاش میں رہتے ہیں…انہیں ورغلانے کیلئے کیاکیاچالیں چلتے ہیں اورکیسے کیسے جال بچھاتے ہیں…لہٰذااہلِ حق کواس سلسلے میں ہمہ وقت انتہائی باخبراورچوکنارہنے کی اشدضرورت ہے۔ حاشیہ صفحہ ہذا: (۱)یہ بات غورطلب ہے کہ وہ شخص جسے اپنوں کی طرف سے قطعِ تعلق ٗبے رخی ٗاوربیزاری کاسامناہو،تمام شہرمدینہ میں کوئی اس کے ساتھ بات چیت تک کرنے کاروادارنہو،جوخوداپنے ہی شہرمیں اجنبی بن کررہ گیاہو،خوداپنے ہی گھرمیں خودکوپردیسی محسوس کرنے لگاہو،اس تکلیف اوراس صدمے کی وجہ سے جس کادل شب وروزخون کے آنسوروتاہو…ایسے میں ایک اتنے بڑے بادشاہ کی طرف سے ازخوداس پیشکش کاموصول ہونا…کہ تم ہمارے پاس چلے آؤ،ہم تمہاری خوب قدرکریں گے،ہرطرح تمہاراخیال رکھیں گے…ظاہرہے کہ ایسے میں ایمان پراورراہِ حق پرثابت قدم رہنابہت بڑی آزمائش ہی تھی… کوئی اورشخص ہوتاتواس نادرموقع کوغنیمت جانتا،اوراس پیشکش سے جلدازجلدبھرپورفائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کرتا…لیکن حضرت کعب بن مالکؓ کااس موقع پرردِعمل اوراندازِفکریہ تھاکہ اس پیشکش کوغنیمت جاننے اوراس پرخوشی منانے کی بجائے انہوں نے اسے اپنے لئے ایک اوربڑی آزمائش سمجھا…اورجلدازجلداس سے نجات حاصل کرنے کی غرض سے اس خط کو تندورمیں جلاکرراکھ کرڈالا،تاکہ ابھی فوری طورپریہ دروازہ ہمیشہ کیلئے بندہوجائے،اوراس کاکوئی اثراورنام ونشان بھی باقی نہ رہے…تاکہ آئندہ کبھی کسی فتنے کاسبب نہ بن سکے… ظاہرہے کہ یہ اندازِفکراوریہ طرزِعمل صرف وہی شخص اپناسکتاہے جس کے دل میںیقینبہت زیادہ راسخ ہو،جس کادل ایمان کے نورسے جگمگارہاہو،اورجس کادل ہرقسم کے شک وشبہہ سے مکمل پاک ہو…اورحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایمانی کیفیت یقیناایسی ہی تھی۔