اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
ایک حدکے اندرتھا،لیکن آج جب چچازادبھائی کے ساتھ انہیں اس صورتِ حال سے دوچارہوناپڑا…تواب دل ٹوٹ گیا…اورابتک انہوں نے اپنے دل میں دردکاجوایک سمندر چھپا رکھاتھا…اب وہ آنسوبن کربہنے لگا…) ٭…اس کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اس باغ سے واپس چل دئیے… چلتے چلتے دوبارہ مدینہ کے اسی بازارمیں پہنچ گئے،وہی اداسی کی کیفیت طاری تھی،اسی کیفیت میں افسردہ ورنجیدہ چلے جارہے تھے کہ اچانک ان کے کان میں کسی کی آوازپڑی ، کوئی ’’نبَطی‘‘ یعنی شامی شخص تھا(واضح ہوکہ ملکِ شام اُس وقت سلطنتِ روم کاحصہ تھا،یعنی بالفاظِ دیگریہ ’’رومی‘‘شخص تھا)جوہرراہ گیرکوروک روک کراس سے پوچھتا پھر رہا تھاکہ ’’کعب بن مالک کے بارے میں کوئی مجھے بتائے ،ان سے ملاقات کہاں اورکس طرح ہوسکے گی؟‘‘ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے اسے بتایاکہ میں ہی کعب بن مالک ہوں،تب اس نے مجھے ایک خط تھمادیا،جوکہ میرے نام رومیوں کے بادشاہ کی طرف سے تحریرکردہ تھا،میں نے وہ خط پڑھناشروع کیا،اس کامضمون کچھ اس طرح تھا’’ہمیں خبرملی ہے کہ آپ کے ساتھی(یعنی رسول اللہﷺ)نے آپ کے ساتھ بڑی زیادتی اورناانصافی کی ہے،جبکہ آپ جیسے لائق وفائق اورقابل ترین انسان کی یہ ناقدری اوربے توقیری کسی صورت مناسب نہیں ہے، لہٰذا آپ کیلئے ہماری طرف سے یہ پیغام ہے کہ آپ یہ ذلت وناقدری کی زندگی چھوڑکر ہمارے پاس چلے آئیے،یہاں ہرطرح آپ کی عزت افزائی اورقدردانی کی جائیگی اور آپ کے عین شایانِ شان سلوک روارکھاجائے گا‘‘(۱) (حاشیہ آئندہ صفحے پر…)