اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
تک نہیں دیا…(۱) میں نے ابوقتادہؓ کواللہ کی قسم دے کرکہا’’کیاتم نہیں جانتے کہ مجھے اللہ اوراس کے رسولؐسے بہت زیادہ محبت ہے؟‘‘لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،میں نے دوسری باریہی سوال دہرایا،تب بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، حالانکہ وہ میرے بارے میں خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ مجھے واقعی اللہ اوراس کے رسول سے بہت زیادہ محبت ہے،تب میں نے تیسری بارقسم دے کرپھریہی سوال دہرایا،جس پرانہوں نے فقط اتناکہا ’’اللہ ورسولہ اعلم‘‘یعنی یہ تواللہ اوراس کارسول ہی بہترجانتے ہیں‘‘تب میری آنکھوں سے آنسوبہنے لگے…‘‘ (یعنی کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کومسلسل گذشتہ کئی روزسے سبھی لوگوں کی طرف سے ترکِ تعلق کاجوسامناتھا،اوردوسرے دونوں حضرات(ہلال بن امیہ اورمُرارۃ بن الربیع) کے برعکس ابتک وہ اس صورتِ حال کوبرداشت کرتے چلے آرہے تھے،نمازبھی مسجدمیں حاضرہوکرباجماعت اداکیاکرتے تھے،بازاروں میںبھی گھوماپھراکرتے تھے اس امید پر کہ شایدکوئی مجھ سے بات کرے… الغرض اس کیفیت کے باوجودابتک یہ نفسیاتی صدمہ ------------------------------ (۱) حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے سلام کاجواب تک نہیں دیا…حالانکہ انہیں یہ بات خوب معلوم تھی کہ کعبؓکس قدرنفسیاتی صدمے سے دوچارہیں،سبھی نے انہیں چھوڑرکھاہے،قطعِ تعلق کررکھاہے،کتنے ہی دن اسی کیفیت میں گذرچکے ہیں،مزیدیہ کہ ان دونوں میں باہم کس قدرقریبی رشتہ تھا،کتناگہراتعلق تھا،کس قدرمحبتیں تھیں،لیکن اس سب کچھ کے باوجود…سلام کاجواب تک نہیں دیا…کیونکہ رسول اللہﷺکی طرف سے یہی حکم تھا،اللہ اوررسولؐ کے دین کے معاملے میں …نیزاللہ اوررسولؐ کے کسی بھی حکم کے معاملے میں کسی کے ساتھ ذرہ برابر رعایت برتنے کی کوئی گنجائش نہیں،اللہ کے دین کے معاملے میں تمام تعلقات ہیچ تھے،ان کی نظرمیں ہروہ تعلق اورہروہ رشتے داری بے معنیٰ اوربے حیثیت تھی جس سے اللہ اوراس کے رسولﷺکے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہو…یہی ان کی سوچ تھی…اوراسی کے مطابق ان سبھی کاعمل بھی تھا۔