اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
آزمائش اب بہت زیادہ شدت اختیارکرگئی،کیونکہ اب گھربھی ویران ہوچکاتھا۔ ٭…ان دنوںاپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں: ’’جب نوبت یہاں تک جاپہنچی تومیرے دونوں ساتھی (ہلال بن امیہ اورمُرارۃ بن الربیع)توبس اپنے اپنے گھرمیں بندہوکربیٹھ گئے جہاں وہ سارادن روتے رہتے تھے… جبکہ میں توان کی بنسبت کافی جوان ٗباہمت ٗاورحوصلہ مندتھا،لہٰذاگھرمیں بندہوکربیٹھ جانے اورگریہ وزاری میں اپنے شب وروزبسرکرنے کی بجائے میں گھومتاپھرتاتھا،ہرنمازکے وقت مسجدبھی جاتااوروہاں دیگرتمام نمازیوں کے ساتھ باجماعت نمازبھی پڑھاکرتاتھا، میں (فرائض کے بعدسنتیںپڑھتے وقت)نمازکے دوران کن اکھیوں سے چوری چوری رسول اللہﷺکی جانب دیکھاکرتاتھا،تب میں محسوس کرتاکہ آپؐمیری جانب دیکھ رہے ہیں… لیکن جونہی میں سلام پھیرتا ٗآپؐ اپناچہرہ دوسری جانب موڑلیتے… پھرمسجدسے نکلنے کے بعدبازاروں میں گھومتاپھرتا،لوگوں کودیکھتا،ان کے قریب جاتا،اس امیدکے ساتھ کہ شایدکوئی مجھ سے بات کرے،لیکن کوئی بھی مجھ سے بات نہ کرتا،اس لئے کہ یہ تورسول اللہﷺکاحکم تھا،اوروہ سبھی حضرات رسول اللہﷺکے ہرحکم کی تعمیل ضروری سمجھتے تھے… ایک روزجب اسی کیفیت میں میں مدینہ کے کسی بازارمیں چلاجارہاتھا،لوگوں کی طرف سے یہ بے رخی اب میرے لئے قطعی ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی تھی…آخرچلتے چلتے میں ابوقتادہ کے باغ تک جاپہنچا،جوکہ میرے چچازادبھائی تھے ٗ نیزہم میں آپس میں بہت زیادہ محبتیں اورقربتیں تھیں،میں نے دیوارکے اوپرسے جھانک کردیکھاتومجھے وہاں ابوقتادہ نظرآئے،میں نے انہیں سلام کیا…مگراللہ کی قسم…انہوں نے میرے سلام کاجواب