اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
محسوس ہونے لگا…ان کی اسی کیفیت کو قرآن کریم میں اس طرح بیان کیاگیاہے:
{وَضَاقَت عَلَیھِمُ الأرضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیھِمْ أنفُسُھُمْ … } (۱) یعنی’’یہاں تک جب یہ زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجودان پرتنگ ہوگئی،اوران کی زندگیاں ان پردوبھرہوگئیں…‘‘
یوں یہ تینوں خوداپنوں کے درمیان ٗ اپنے ہی شہرمیں اجنبی بن کررہ گئے…اس سے بھی بڑھ کریہ کہ خوداپنی ذات سے اجنبی ہوگئے…اپنے آپ سے بیگانے ہوگئے…
٭…اورپھرجب اسی کیفیت میں چالیس دن گذرگئے،تورسول اللہﷺنے ان تینوں کو یہ حکم دیاکہ اپنی بیویوں سے علیحدہ ہوجائیں…اوران سے ترکِ تعلق کرلیں۔
چنانچہ رسول اللہﷺکی طرف سے بھیجاہواقاصدیہ حکم لئے ہوئے حضرت کعب بن مالکؓ کے پاس پہنچا،اورآپؐ کی طرف سے یہ حکم سنایا: اِنّ النّبِيّ ﷺ یَأمُرُکَ أن تَعتَزِلَ اِمْرَأتَک… یعنی’’رسول اللہﷺنے آپ کیلئے یہ حکم بھجوایاہے کہ آپ اپنی بیوی سے دوری اختیارکرلیجئے…‘‘تب انہوں نے اس قاصد سے دریافت کیا’’کیامیں اسے طلاق دے دوں؟ یاکیاکروں؟‘‘اس پرقاصدنے آپؐ کی طرف سے وہی پیغام دہرایا،بعینہٖ وہی الفاظ دہرائے،اپنی طرف سے کوئی مطلب بیان نہیں کیا،کوئی خودساختہ تشریح پیش نہیں کی، کوئی تاویل نہیں کی،بلکہ مکمل امانت ودیانت کے ساتھ وہی الفاظ دہرائے جورسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمائے تھے۔
یہ حکم موصول ہونے کے بعدحضرت کعب بن مالکؓ نے اپنی اہلیہ سے کہا : اِلحَقِي بأھلِکیعنی’’اپنے میکے چلی جاؤ…‘‘اورتب وہ اپنے میکے چلی گئیں،اوریوں ان کیلئے یہ
------------------------------
(۱) سورۃ التوبہ/براء ۃ[۱۱۸]