اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
بن کررہ گئے،جس شہرمیں پیداہوئے،جہاں ساری زندگی گذاری ، جن گلی کوچوں میں کھیل کودکربڑے ہوئے…اب وہی جگہ اوراپناوہی شہرانہیں اجنبی محسوس ہونے لگا…یایوں کہہ لیاجائے کہ…یہ خوداب اس شہرمیں اجنبی بن کررہ گئے…اب انہیں وہاں وحشت محسوس ہونے لگی،نہ کسی کے ساتھ کوئی تعلق باقی رہا،نہ کوئی رشتہ برقراررہا،نہ کوئی میل جول ہے ،نہ ملاقات ہے،نہ سلام وکلام کاکوئی سلسلہ ہے،کوئی بات نہیں کرتا،کوئی سلام نہیں کرتا،اگریہ خودسلام کرتے ہیں توکوئی ان کے سلام کاجواب نہیں دیتا،یہاں تک کہ خود رسول اللہﷺبھی اپنی تمامتررحمت وشفقت کے باوجود ٗاوراپنی تمامترخوش اخلاقی کے باوجود… ان کے سلام کاجواب نہیں دیتے… حضر ت کعبؓ فرماتے ہیں کہ ’’میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضرہوتا،سلام عرض کرتا، اور یہ سوچ کرخوب غورسے آپؐکے ہونٹوں کی جانب دیکھتاکہ آپؐنے اگرچہ زبان سے تو میرے سلام کاجواب نہیں دیا…لیکن…ممکن ہے کہ آپؐکے ہونٹوں میں جنبش ہوئی ہو… آوازتونہیں آئی…لیکن ممکن ہے کہ آپؐنے شایدآہستہ سے جواب دیاہو…‘‘ ٭…قابلِ غورہے یہ بات کہ وہ ،معاشرہ جسے ’’خیرالقرون‘‘کے نام سے یادکیاگیا،تمام انسانی تاریخ میں بہترین معاشرہ،جہاں خودرسول اللہﷺکاوجودمسعودتھا،آپؐکاوہ مبارک زمانہ،وہ عہدِنبوی،اس بے مثال اوراس مبارک ترین معاشرے میں جس کوسبھی چھوڑدیں ،اورجس سے سبھی منہ موڑلیں،جس سے کوئی بات نہ کرے،جسے کوئی سلام کا جواب تک نہ دے…ظاہرہے کہ یہ کتنی بڑی آزمائش تھی…یونہی وقت گذرتارہا،حتیٰ کہ ان تینوں کویہ زمین اپنی تمامترکشادگی کے باوجوداپنے لئے تنگ محسوس ہونے لگی… اورپھراس سے بھی بڑھ کرنوبت یہاں تک جاپہنچی …کہ انہیں خوداپناوجوداپنے لئے بوجھ