اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
بات ختم ہوجائیگی…‘‘ کعبؓ کی قوم کے یہ لوگ کعب ؓکے سامنے اپنے اس مشورے پراصرارکرتے رہے ،حتیٰ کہ کچھ دیرکیلئے کعبؓ اس بارے میں ترددکاشکارہوگئے… آخرانہوں نے سوچاکہ’’ معلوم کیاجائے کہ کیامیرے علاوہ کوئی اورشخص بھی ایساہے جس نے راست گوئی سے کام لیاہو…اوراس وجہ سے اس کامعاملہ بھی مجھ جیساہی ہو… چنانچہ تحقیق کرنے پرمعلوم ہواکہ دوافرادایسے ہیں جنہوں نے سچ بولا،جس پرانہیں بھی رسول اللہﷺکی طرف سے وہی بات کہی گئی جواِنہیں(یعنی حضرت کعب رضی اللہ عنہ ) کوکہی گئی تھی،یعنی اللہ کی طرف سے فیصلے کاانتظار…‘‘ اوریہ دوحضرات ہلال بن امیہ اورمُرارۃ بن الربیع (رضی اللہ عنہما)تھے، حضرت کعبؓ کوجب یہ بات معلوم ہوئی توانہیں یہ سوچ کرکافی اطمینان نصیب ہواکہ ’’یہ دونوں تواللہ کے برگزیدہ ترین بندے ہیں ،حتیٰ کہ غزوہ ٔبدرمیں شرکت کاعظیم شرف بھی انہیں نصیب ہواہے،لہٰذافکرکی ضرورت نہیں،کیونکہ ان دونوں کے ساتھ جوہوگاوہی میرے ساتھ بھی ہوجائیگا‘‘اوریہ بات سوچ کرانہوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں اب دوبارہ حاضری کااور اپنے لئے کوئی عذرپیش کرنے کاارادہ بالکل ہی ترک کردیا،اوراپنے اسی ’’سچ‘‘پرقائم رہتے ہو ئے بس خودکواللہ کے حوالے کردینے کاعزم بالجزم کرکے بیٹھ گئے۔ ٭…اورپھراسی کیفیت میں چندروزہی گذرے تھے کہ رسول اللہﷺنے یہ حکم صادر فرمایاکہ ہرکوئی ان تینوں سے مکمل قطعِ تعلق کرلے،تب سبھی نے ان سے مکمل قطعِ تعلق کرلیا، حتیٰ کہ سبھی نے ان سے بات چیت ٗ سلام وکلام ٗ سب کچھ ترک کردیا،تب یہ تینوں بہت زیادہ پریشان اورانتہائی افسردہ ہوگئے…اوریوں بس اپنے ہی لوگوں کے درمیان اجنبی