اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
بہانہ بناکراپنی جان چھڑالیتا،لیکن میں آپ کے سامنے ہرگزجھوٹ نہیں بولوں گا‘‘ الغرض منافقین کے برعکس حضرت کعب بن مالکؓ نے ایمان داری اورصاف گوئی سے کام لیتے ہوئے بالکل درست اوراصل بات بتادی کہ نہ تومجھے کوئی عذرتھا،نہ ہی کوئی جسمانی یامالی رکاوٹ اورپریشانی لاحق تھی… حضرت کعب بن مالکؓ کی یہ بات سننے کے بعدرسول اللہﷺنے فرمایا: أمّا ھذا فقد صَدَق … یعنی’’یہی ہے جس نے سچ بولاہے‘‘ اورپھرمزیدفرمایا’’جاؤ،یہاں تک کہ اللہ تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ نازل فرمائے‘‘ تب کعبؓ وہاں سے چل دئیے…ایمان کی شمع دل میں لئے ہوئے،اپنے اللہ پرمکمل بھروسہ کئے ہوئے،اوراپنامعاملہ بس اسی کے حوالے کرتے ہوئے… اس موقع پرحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کوذہنی ونفسیاتی طورپرپریشانی توبہت زیادہ لاحق تھی ،بالخصوص اس بات کی وجہ سے کہ یہ منافق قسم کے لوگ کس طرح جھوٹے بہانے بنابناکراورجھوٹی قسمیں کھاکرچھوٹ گئے…اوربس ہنسی خوشی چلتے بنے…بات ختم ہوگئی…جبکہ میرااب نہ جانے کیابنے گا…؟ لیکن اس پریشانی کے ساتھ ہی انہیں یہ اطمینان بھی تھاکہ میں نے اللہ کے رسولﷺکے سامنے جھوٹ نہیں بولا،یوں بیک وقت ’’پریشانی اوراطمینان‘‘کی یہ ملی جلی کیفیت ان پرطاری تھی… اس دوران ان کی قوم ’’بنوسَلَمہ‘‘کے کچھ لوگوں نے انہیں مشورہ دیتے ہوئے کہا’’اے کعب!آپ رسول اللہﷺکی خدمت میں دوبارہ جائیے،اورعرض کیجئے کہ مجھے کوئی عذر درپیش تھا،جس کی وجہ سے میں اس غزوے سے پیچھے رہ گیا،آپ کی یہ بات سن کررسول اللہ ﷺآپ کیلئے دعائے مغفرت کریں گے،جس پراللہ آپ کومعاف فرمادے گا…اوربس