اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
سے واپسی کاسفرشروع ہوا،تبوک میں یہ بیس روزہ قیام ٗنیزآمدورفت ملاکرکل یہ پچاس دن کاسفررہا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کوجب یہ خبرملی کہ رسول اللہﷺتبوک سے واپس مدینہ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں،تواس سوچ میں پڑگئے کہ آپؐ کی جب مدینہ تشریف آوری ہوگی تومیں کیاکہوں گا…؟ اورپھرآخرآپؐواپس مدینہ پہنچ گئے،آپؐ کامعمول تھاکہ ہمیشہ سفرسے واپسی کے موقع پر اپنے گھرتشریف لے جانے کی بجائے پہلے مسجدجایاکرتے تھے،وہاں دورکعت نمازادا کرتے، اس کے بعدکچھ دیروہیں تشریف فرمارہتے،تاکہ سب سے ملاقات وغیرہ کاسلسلہ بھی ہوجائے…اس کے بعدآپؐاپنے گھرتشریف لے جاتے۔ حضرت کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں’’رسول اللہﷺجب مسجدمیں تشریف فرماتھے ،تب میں دیکھتارہاکہ بڑی تعدادمیں منافقین آتے رہے ،آپؐ کے سامنے مختلف حیلے بہانے بناتے رہے ،جھوٹی کہانیاں سناتے رہے،جھوٹے عذرپیش کرتے رہے،اورجھوٹی قسمیں کھاکراپنی جان چھڑاتے رہے…اورہنسی خوشی وہاں سے جاتے رہے…جبکہ میں نے یہ پختہ عزم کررکھاتھاکہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا،میں مسجدمیں داخل ہوا،آپؐ کی خدمت میں سلام عرض کیا…آپؐنے سلام کاجواب دیا،قدرے تبسم فرمایا،لیکن اس تبسم میں کچھ ناراضگی کی آمیزش بھی شامل تھی،پھرآپؐ نے فرمایا: ’’میرے قریب آؤ‘‘اس پرمیں قریب آگیا،تب آپؐ نے مجھ سے دریافت فرمایا’’کعب !تم کیوں پیچھے رہ گئے؟‘‘ میں نے عرض کیا’’اے اللہ کے رسول!مجھے کوئی عذردرپیش نہیں تھا،میں نے دوتیزرفتاراونٹنیاں بھی تیار کر رکھی تھیں،آج اگرمیں آپ کی بجائے کسی دنیاوی بادشاہ کے سامنے ہوتاتوکوئی جھوٹا