اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
مسلسل سفرکرتے ہوئے آخرمنزلِ مقصودیعنی ’’تبوک‘‘جاپہنچے،اس دوران تمام راستے میں آپؐ نے کعبؓ کے بارے میں کسی سے کوئی استفسارنہیں فرمایا،البتہ طویل مسافت طے کرتے ہوئے تبوک پہنچ جانے کے بعدایک روزجب آپؐ اپنے چندساتھیوں کے ہمراہ کسی جگہ تشریف فرماہے تھے ،تب آپؐ نے اچانک انہیں مخاطب کرتے ہوئے دریافت فرمایا: أین کعب بن مالک…؟ یعنی’’کعب بن مالک کہاں ہیں…؟‘‘تب ایک شخص نے جواب دیاکہ ’’اے اللہ کے رسول!کعب تونہیں آئے‘‘ اس موقع پراتفاقاًوہاں حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ بھی موجودتھے(۱)انہوں نے جب یہ صورتِ حال دیکھی توانہیں یہ فکرلاحق ہونے لگی کہ’’کہیں ایسانہوکہ کعب کی غیرحاضری کی خبرسننے کے بعدرسول اللہﷺکوصدمہ پہنچے ،یاآپؐ کے قلبِ مبارک میں کعب کے خلاف کوئی ناگواری اورکدورت پیداہونے لگے…‘‘لہٰذاانہوں نے فوراًہی کعبؓ کی طرف سے دفاع کی غرض سے ان کے بارے میں کوئی ایسی مبہم اورگول مول قسم کی بات کی جس سے یہ تأثردینامقصودتھاکہ کعب منافق نہیں ہیں،بلکہ وہ توبہت ہی اچھے انسان ہیں ،ضرورانہیں کوئی عذرپیش آگیاہوگاجس کی وجہ سے وہ نہیں آسکے‘‘ تاہم رسول اللہ ﷺ نے نہ تواس پہلے شخص کی بات کاکوئی جواب دیا(جس نے آپؐ کے استفسارکے جواب میں یہ بتایاتھاکہ کعب تونہیں آئے)اورنہ ہی معاذبن جبلؓ کی اس بات کاکوئی جواب دیا(جس میں انہوں نے کعبؓ کی طرف سے کچھ صفائی پیش کرنے کی کوشش کی تھی)آپؐ نے اس موقع پر بس خاموشی اختیارفرمالی۔ ٭…رسول اللہﷺنے اپنے لشکرکے ہمراہ بیس روزتبوک میں قیام فرمایا،اورپھروہاں ------------------------------ (۱) جلیل القدرصحابی حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کامفصل تذکرہ صفحات [۶۲۳۔۶۳۹]میں ملاحظہ ہو۔