اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
کسی صورت لشکرکے ساتھ نہیں مل سکتا…‘‘(۱) ٭…آخرحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ میں ہی بیٹھے رہ گئے…فرماتے ہیں کہ ’’میں جب بھی گھرسے نکلتا…تواپنے پرانے ساتھیوں میں سے مجھے کوئی نظرنہ آتا… رسول اللہﷺبھی نظرنہ آتے…بس گلی کوچوں میں کھیلتے کودتے بچے نظرآتے تھے… کبھی کوئی معذورشخص نظرآجاتاجوواقعی عذرکی وجہ سے نہیں جاسکاتھا،یاپھرکبھی کوئی ایساشخص نظرآجاتاجوسرسے پاؤں تک نفاق میں ڈوباہواہوتاتھا،یعنی منافق قسم کاانسان… جو اپنے نفاق کی وجہ سے نہیں گیا،جب جانے کاوقت تھاتب چھپ کراپنے گھرمیں دبکا بیٹھا رہا…اوراب جبکہ سبھی جاچکے ہیں تویہ یہاں گھومتاپھررہاہے…اس قسم کے لوگوں پر جب میری نگاہ پڑتی…تومیں خوداپنے بارے میں بھی سوچنے لگتا…اورتب میرادل بجھ جاتا…اورمیں یہ سوچ کرانتہائی شرمساراورغمگین ہوجاتاکہ ’’میں بھی توانہی کی طرح یہاں بیٹھاہواہوں ٗلہٰذاکیامیراشماران بچوں ٗعورتوں ٗمعذوروں ٗ اورمنافقوں میں ہے ؟‘‘ ٭…اُدھردوسری طرف رسول اللہﷺاپنے لشکرکے ہمراہ مدینہ سے روانگی کے بعد ------------------------------ (۱)یہاں ایک بہت بڑاعلمی فائدہ اورسبق یہ پوشیدہ ہے کہ انسان کوہرکام اپنے وقت پرہی نمٹالیناچاہئے،اوریہ جوبہت سے لوگوں کی عادت ہواکرتی ہے کہ ہمیشہ زبان پریہی جملہ رہتاہے کہ ’’کل کرلوں گا‘‘اس سے بہرصورت گریزکرناچاہئے،کیونکہ بسااوقات یہ چیزبڑی پریشانی کااوربڑے نقصان کاباعث بن جایاکرتی ہے… بالخصوص دینی معاملات میں تواس چیزسے اجتناب کی بہت زیادہ ضرورت ہے،نماز ٗروزہ ٗ حج ٗ زکوٰۃ ٗوغیرہ تمام دینی فرائض کی بروقت اورفوری ادائیگی کامکمل اہتمام والتزام کیاجائے،بصورتِ دیگرخودبخوداس قسم کے حالات درپیش آتے رہیں گے کہ مسلسل تاخیرہوتی چلی جائیگی،اورپھرانسان کے پاس صرف ندامت ہی رہ جائیگی… جیساکہ حضر ت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیاکہ روانگی کامکمل عزم موجودتھا،تیاری بھی خوب کررکھی تھی،لیکن کسی وجہ سے جب تاخیرہوگئی…توپھرتاخیرہوتی ہی چلی گئی…آخریہ تاخیران کیلئے بہت زیادہ پریشانی اوربڑی آزمائش کاسبب بن گئی۔