اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
سنگین تھی…چنانچہ سبھی لوگ بھرپورطریقے سے تیاری میں مشغول ہوگئے،دوردرازکے علاقوں سے بھی بڑی تعدادمیں دستے مدینہ پہنچنے لگے…لہٰذاایسے میں جب ہرکوئی نہایت جوش وخروش اورزوروشورکے ساتھ تیاری میں مشغول ومنہمک تھا…تب صرف منافق قسم کے لوگ ہی تھے کہ جواس غزوے میں شرکت سے بچنے کے حیلے بہانے تلاش کررہے تھے کہ بس کسی بھی طرح ان کی جان بچ جائے…یہ لوگ کوئی تیاری بھی نہیں کررہے تھے، اوریوں گویاقدرت کی طرف سے اس بڑی آزمائش کے ذریعے خالص اورسچے مؤمنوں اور منافقوں کے مابین تمیزاورپہچان کامعیارمقررکردیاگیاتھا،نیزاس طرح اُس اسلامی معاشرے میں مسلمانوں کے درمیان جوچھپے ہوئے دشمن اورآستین کے سانپ تھے… قدرت کی طرف سے اب انہیں بے نقاب کئے جانے کاانتظام ہورہاتھا۔ ٭…البتہ تین افرادایسے تھے جوحقیقی مؤمن تھے،یعنی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ٗ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ٗاورحضرت مُرارۃ بن الربیع رضی اللہ عنہ ،یہ تینوں مؤمنِ خالص تھے،لیکن اس کے باوجوداس موقع پریہ تینوں بھی نہیں جاسکے…یقینااس میں بھی اللہ عزوجل کی جانب سے کوئی بڑی حکمت ومصلحت پوشیدہ تھی… ٭…حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’رسول اللہﷺودیگرتمام مسلمانوں نے اس سفرکیلئے خوب تیاری کی ٗاوراس کے بعدایک روزوہ سب مدینہ سے روانہ ہوگئے…لیکن میں چونکہ اپنے کھجوروں کے باغ سے متعلق کچھ کام کاج میں الجھا ہوا تھا،اس لئے میں نے سوچاکہ میں کل روانہ ہوں گا،اورخوب تیزرفتاری کے ساتھ سفرکرتا ہوا ان کے ساتھ جاملوں گا…لیکن دوسرے روزبھی میں اپناوہ کام نپٹانہیں سکا…تب سوچا کہ کل جاملوں گا…آخرمجھے خوب اندازہ ہوگیاکہ اب بہت دیرہوچکی ہے…اب میں