اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
لہٰذاغزوۂ بدرمحض اتفاقیہ طورپرپیش آگیاتھا،اس کیلئے باقاعدہ کوئی اعلان نہیں کیاگیاتھا، کیونکہ رسول اللہﷺتواس موقع پرجنگ کے ارادے سے نکلے ہی نہیں تھے،چنانچہ یہی وجہ تھی کہ صرف کعب بن مالکؓ ہی نہیں ٗبلکہ بہت سے صحابۂ کرام اس میں شریک نہیں ہوئے تھے ، جس پرانہیں کوئی ملامت نہیں کی گئی تھی۔ اورجب ’’غزوۂ تبوک ‘‘کاموقع آیاتو…جیساکہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خود صورتِ حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں…’’اس موقع پرمیرے حالات بہت اچھے تھے، خوشحالی تھی،دوصحتمند ٗتندرست ٗاورتیزرفتاراونٹنیاں بھی میرے پاس تھیں،جبکہ اس سے قبل کبھی کسی غزوے کے موقع پرایسانہیں ہواتھاکہ بیک وقت دواونٹنیاں میری ملکیت میں ہوں،نیزاس سے قبل کبھی میرے حالات بھی اس قدراچھے نہیں تھے‘‘ ٭…رسول اللہﷺکامعمول یہ تھاکہ آپؐ ہمیشہ ہر غزوے کے موقع پراحتیاطی تدبیر کے طورپرحتیٰ الامکان رازداری سے کام لیاکرتے تھے…مثلاًیہ کہ کب روانگی ہوگی؟ کس راستے سے روانگی ہوگی؟وغیرہ… لیکن غزوۂ تبوک کے موقع پرایسانہیں کیاگیا،بلکہ عام منادی کردی گئی،اورسبھی لوگوں کو خوب زیادہ سے زیادہ تیاری کی ہدایت کی گئی،کیونکہ اس موقع پرصورتِ حال بہت زیادہ ------------------------------ باقی ازحاشیہ صفحہ گذشتہ بالکل بے سروسامانی کی کیفیت میں وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے تھے…لہٰذاانہیں اس بات کی اجازت تھی کہ مشرکینِ مکہ کاکوئی تجارتی قافلہ یااموال واسباب کہیں ہاتھ لگ جائے تواس پرقبضہ کرلیاجائے…تاکہ اس طرح ان مسلمانوں کے اُس بڑے نقصان کی کسی حدتکتلافی ہوسکے کہ جس کاسبب خودمشرکینِ مکہ ہی تھے،چنانچہ یہی وجہ تھی کہ مسلمان مشرکینِ مکہ کے اس قافلے کوروکنے کی غرض سے نکلے تھے،لیکن بقضائے الٰہی وہاں اس تجارتی قافلے کی بجائے مشرکین کے جنگی لشکرسے ٹکرہوگئی،جس کے نتیجے میں ’’غزوۂ بدر‘‘کی نوبت آئی۔