اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
٭…حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خالص اورحقیقی مؤمن تھے،البتہ یہ کہ وہ اس یادگاراوراہم ترین غزوۂ تبوک میں شریک نہیں ہوئے،اس کی کیاوجہ تھی؟کیاحالات وواقعات پیش آئے تھے؟ اورپھرکیانتیجہ برآمدہواتھا؟ یقینااس میں ہمیشہ کیلئے ہرمسلمان کیلئے بڑاسبق پوشیدہ ہے۔
اس سلسلے میں ایک طویل حدیث ہے ،جس میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خوداپناواقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:(۱)
’’غزوۂ تبوک سے قبل کبھی کسی غزوے کے موقع پرمیں غیرحاضر نہیںرہاتھا،سوائے ’’غزوۂ بدر‘‘کے،کیونکہ بدرکے موقع پرتوصورتِ حال اس وجہ سے قطعی مختلف تھی کہ اس موقع پر تو باقاعدہ غزوے کااعلان ہی نہیں ہواتھا،رسول اللہﷺاپنے بہت سے ساتھیوں کے ہمراہ مشرکینِ مکہ کے اُس ’’عِیر‘‘(تجارتی قافلے)کوروکنے کی غرض سے مدینہ سے نکلے تھے جو ملکِ شام سے مکہ کی جانب واپس جاتے ہوئے مدینہ کے قریب سے گذررہاتھا،لیکن اس تجارتی قافلے کی بجائے آمناسامناہوگیاتھامشرکینِ مکہ کے جنگی لشکرسے،جو اس تجارتی قافلے کوبچانے کی خاطرمکہ سے مدینہ پہنچاتھا،اللہ کی طرف سے اسی میں کوئی حکمت تھی‘‘(یعنی مسلمانوں کااس تجارتی قافلے کی بجائے جنگی لشکرکے ساتھ جوسامنا ہو گیا، اسی میں اللہ کے علم میںکوئی حکمت تھی‘‘۔(۲)
------------------------------
(۱)اس مشہورومعروف حدیث کی ابتداء اس طرح ہے: لَم أتَخَلّف عن رسول اللّہ ﷺ في غَزوۃ غزاھا قطّ الا في تبوک …کتبِ حدیث ٗتفسیر ٗ وتاریخ میں یہ حدیث موجودہے،امام نووی نے ریاض الصالحین میں ’’باب التوبہ‘‘میں ذکرکی ہے۔
(۲)مسلمان چونکہ مشرکینِ مکہ کی طرف سے ظلم وزیادتی کے نتیجے میں ہی اپناسب کچھ مکہ میں چھوڑکرخالی ہاتھ
(باقی حاشیہ آئندہ صفحے پر…)