اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
حوصلہ شکنی کاسبب بن رہے تھے…
تب اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے ان کیلئے یہ شدیدترین وعیدنازل ہوئی تھی: {قُل نَارُ جَھَنَّمَ أشَدُّ حَراً لَوکَانُوا یَفقَھُونَ…}(۱)یعنی’’کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ توبہت زیادہ گرم ہے،کاش وہ اس بات کوسمجھتے‘‘
یعنی یہ منافقین جس گرمی سے بچنے کی خاطراس غزوے کیلئے نکلنے سے کترارہے ہیں ٗ ان کایہ عمل انہیں اُس جہنم کی آگ تک پہنچادے گاجس کی گرمی تودنیاکی اس گرمی سے بہت زیادہ سخت ہے…تب یہ کیاکریں گے؟
٭…یہ غزوہ ایسے وقت پیش آیاجب کھجوریں پکنے کاموسم تھا،سال بھرکے انتظارکے بعداب اپنی شب وروزکی محنت کاپھل جب اپنی آنکھوں کے سامنے نظرآنے لگاتھا… ایسے میں اسے چھوڑکرچلتے بننا…جبکہ اس بارے میں کوئی اندازہ ہی نہیں تھاکہ واپسی کب ہوگی؟ بالخصوص یہ کہ ان کی زندگی میں کھجورکی بہت بڑی اہمیت تھی ،کھجورہی ان کی خوراک تھی ، کھجورپرہی ان کی معیشت اورگذربسرکابڑی حدتک انحصارتھا۔
٭… اس غزوے کے موقع پراس قدرمشکلات کاسامناتھاکہ اس غزوے میں شرکت کرنے والے ہمیشہ کیلئے ’’مؤمن ‘‘جبکہ پیچھے رہ جانے والے ’’منافق‘‘کہلائے،یعنی اس غزوے میں شرکت یاعدمِ شرکت ہمیشہ کیلئے ایمان کااورنفاق کامعیاربن گئی…
٭… قرآن کریم (سورہ توبہ) میںاس غزوے سے متعلق اتنی بڑی تعدادمیں آیات نازل کی گئیں ٗ نیزتفصیلی حالات وواقعات کاتذکرہ کیاگیا…کہ کسی دوسرے غزوے کے موقع پراتنی بڑی تعدادمیں قرآن کریم کی آیات نازل نہیں ہوئیں۔
------------------------------
(۱)توبہ/براء ۃ [۸۱]