اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
وہاں موجوددیگرتمام حضرات نے بھی ان کے سرکوبوسہ دیا…کیونکہ اِنہوں(یعنی حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ)نے اُس ظالم وجابراورمغرورومتکبربادشاہ(قیصرِروم) کے سرکو بوسہ دے کراپنے ان تمام مسلمان ساتھیوں کی جان بچائی تھی…لہٰذایہ یقینااس اعزاز اور قدرافزائی کے مستحق تھے کہ سبھی مسلمان اب ان کے سرکوبوسہ دیں۔ ٭…یہ ہے داستان اس شخص کی جومکہ شہرمیں دوسرے سبھی عام لوگوں کی طرح پلابڑھا…جس کی شخصیت میں بظاہرایسی کوئی خاص بات نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کیلئے تاریخی اوریادگارشخصیت بن جائے…لیکن اللہ کویہی منظورتھا…کہ مکہ کے گلی کوچوں میں پرورش پانے والایہ عام اورسیدھاسادھاانسان …ہمیشہ کیلئے تاریخی شخصیت بن جائے…چنانچہ اللہ کی مشیت ومرضی سے ہی اُس وقت تمام روئے زمین کی دوعظیم ترین سلطنتوں کے انتہائی طاقتور ٗمطلق العنان ٗ ظالم وجابر ٗاورمغرورومتکبربادشاہوں سے ان کی ملاقات ہوئی،اورپھراس حوالے سے کس قدراہم ٗیادگار ٗاورسبق آموزحالات وواقعات بھی پیش آئے،یہی وہ سبب تھاجس کی بناء پریہ سیدھاسادھااور’’عام انسان‘‘اللہ کی مرضی سے ہمیشہ کیلئے ’’عظیم انسان‘‘بن گیا…یہاں تک کہ خلیفۃ المسلمین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ جیسے عظیم ترین انسان (جنہیں دنیا’’فاروقِ اعظم‘‘کے لقب سے یادکرتی ہے)نے خودآگے بڑھ کراس عظیم انسان کے سرکوبوسہ دیا…نیزاُس وقت وہاں موجوددوسرے تمام مسلمانوں کو بھی یہی حکم دیاکہ ہرکوئی آگے بڑھ کران کے سرکوبوسہ دے… ٭…رسول اللہﷺکی طرف سے دعوتِ اسلام کے سلسلے میں مختلف فرمانرواؤں کے نام خطوط تحریرکئے جانے کاواقعہ ۶ھمیں پیش آیاتھا،تب آپؐ کی طرف سے سلطنتِ فارس