اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
روم)کے سرکوبوسہ دیا…تب بادشاہ نے فوری طورپرتمام قیدیوں کی رہائی اور آزادی کا حکم دیتے ہوئے انہیں حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ کے حوالے کیا…اوران سبھی کواپنی مرضی سے جہاں وہ چاہیں …چلے جانے کی اجازت دی… تب یہ تمام حضرات طویل سفرطے کرنے کے بعدسلطنتِ روم کے اُس علاقے سے جب مدینہ واپس پہنچے …توانہوں نے خلیفۂ وقت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کواس تمام واقعے سے مطلع کیا۔ حضر ت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے بڑے ہی انہماک ٗخوب توجہ اوردلچسپی کے ساتھ تمام واقعہ سنا…جس پروہ انتہائی متأثرہوئے ،اور بطورِخاص اس بات پربڑی مسرت کا اظہار کیا کہ عبداللہ بن حذافہ السہمی ؓ نے کس طرح دانشمندی سے کام لیتے ہوئے بادلِ ناخواستہ اُس مغروربادشاہ کے سرکوبوسہ دیا…اوریوں اپنے تمام ساتھیوں کوزندہ سلامت لئے ہوئے آخرواپس مدینہ آپہنچے… اورپھرحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کچھ دیرتک قیصرکی قیدسے رہائی پاکرزندہ سلامت آنے والے ان افرادکی جانب بغوردیکھتے رہے…اورپھر حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کی جانب بغوردیکھتے ہوئے فرمایا: حَقٌّ عَلَیٰ کُلِّ مُسلِمٍ أن یُقَبِّلَ رَأسَ عَبدِ اللّہِ بن حُذَافَۃ … یعنی’’یقینا ہرمسلمان پرعبداللہ بن حذافہ کایہ حق بنتاہے کہ وہ ان کے سرکوبوسہ دے…‘‘ اورپھرفوراًہی مزیدفرمایا: وَأنَا أبدَأُ بِذَلِکَ … یعنی’’اس کام کی ابتداء میں خودکرتاہوں…‘‘ اورپھرسب سے پہلے خودخلیفۃ المسلمین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کرحضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کے سرکوبوسہ دیا…اس کے بعداُس وقت