اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
کروہ سرکش اورمغرورومتکبربادشاہ حیران وپریشان رہ گیا…اوراس سوچ میں پڑگیاکہ کیسی بات کہہ رہاہے یہ قیدی…؟اللہ کی راہ میں اتنی زیادہ جانیں قربان کردینے کی آرزوکررہاہے…حالانکہ ابھی کچھ ہی دیرقبل اپنے ساتھی کادردناک انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ چکاہے؟ آخربادشاہ(قیصرِروم)نے سوچاکہ یہ توواقعی موت سے ڈرتاہی نہیں،حالانکہ موت سے زیادہ خوفناک چیزاورکیاہوسکتی ہے؟وہ بھی ایسی موت؟ مگراسے توقطعاًکوئی فکرہی نہیں ہے، کوئی اثرہی نہیں ہورہااس پر،لہٰذااسے ستانے اورپریشان کرنے کیلئے ’’سزائے موت‘‘کی بجائے کوئی اورترکیب سوچناہوگی… اورپھرقدرے توقف کے بعد…اورکچھ غوروفکرکے بعدوہ کہنے لگا’’کیاتمہیں یہ بات منظورہے کہ تم میرے سرکوبوسہ دو…؟اس کے بدلے میں تمہیں آزادکردوں گا‘‘ تب حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت فرمایا’’کیاتم میرے تمام ساتھیوں کوبھی رہاکردوگے؟‘‘ قیصرنے کہا’’ہاں…تمہارے تمام ساتھی قیدیوں کوبھی رہاکردوں گا‘‘ تب حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی ؓ نے اپنے دل میں سوچاکہ ’’اگرچہ یہ شخص (قیصرِروم) یقینااللہ کااوراس کے دین کادشمن ہے،لیکن اگراس کی اس پیشکش کوقبول کرتے ہوئے میں ابھی اس کاسرچوم لیتاہوں …اوراس کے عوض صرف مجھے ہی نہیں…بلکہ میرے تمام ساتھیوں کوبھی اس قیدسے رہائی نصیب ہوجائے گی…اورہم سبھی کی جان بچ جائے گی… تواس میں کوئی قباحت نہیں ہے‘‘ اورتب حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کراس بادشاہ (یعنی قیصر