اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
یہ منظردیکھ کربادشاہ (قیصرِروم)نہایت خوش ہونے لگا،اوریوں سمجھنے لگاکہ آخرجیت میری ہی ہوئی،اوریہ مسلمان ڈرگیا،اپنابھیانک انجام دیکھ کریہ اب خوفزدہ ہوگیاہے،اس نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے،دنیابھرمیں یہ جوبات مشہورچلی آرہی ہے کہ ’’مسلمان کبھی موت سے نہیں ڈرتا‘‘ہم نے یہ بات آج غلط ثابت کردکھائی ہے،ہماری نگاہوں کے سامنے یہ مسلمان…بلکہ یہ مسلمانوں کے پیغمبرکاساتھی…یہ صحابی…آخراس نے آج ہمارے سامنے ہتھیارڈال دئیے…اورآنسوبھی بہارہاہے… قیصرسمجھاکہ معاملہ یہ ہے…رونے کی وجہ بھی یہی ہے…تب اس نے سپاہیوں کوحکم دیاکہ ’’رُک جاؤ…دیکھویہ رورہاہے…اسے میرے پاس لاؤ‘‘چنانچہ قیدی کوواپس لایاگیا،تب اسے مخاطب کرتے ہوئے قیصرکہنے لگا’’آخرتم ڈرگئے…چلواب تم نصرانی بن جاؤ،ہمارادین اختیارکرلو…‘‘ لیکن تب قیصریہ منظردیکھ کرانتہائی حیرت زدہ رہ گیاکہ اس بار تو قیدی نے پہلے سے بھی زیادہ جوش وخروش اورعزم بالجزم کے ساتھ اس پیشکش کویکسرٹھکرادیا…تب نہایت تعجب کے عالم میں اس نے قیدی سے دریافت کیا’’اب بھی وہی انکار…توپھرتم روکیوں رہے تھے…؟‘‘ اس پرقیدی نے جواب دیا’’میں تواس لئے رورہاتھاکہ میں کتنے ہی دنوں سے تمہاری قید میں جکڑاہوابے بس اورلاچارانسان…اپنی یہ کمزورسی جان اللہ کی راہ میں پیش کررہا ہوں،کاش میرے جسم پرجتنے بال ہیں،میری اتنی ہی جانیں ہوتیں،اورمیں اپنی وہ تمام جانیں اللہ کی راہ میں قربان کرسکتا…‘‘ قیدی (یعنی حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ)کی زبانی یہ عجیب وغریب بات سن