اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
مزیدیہ کہ ان کے برہنہ جسم پرلوہے کی زنجیریں اورزرہیں وغیرہ لپیٹ دیاکرتے تاکہ سلگتا اور تپتاہوا لوہاان کیلئے مزیدتکلیف کاباعث بن سکے،اسی کیفیت میں جب خبّابؓ کی حالت زیادہ بگڑنے لگتی تویہ لوگ یوں کہتے’’بولوخباب!محمدکے بارے میں اب تم کیاکہتے ہو؟‘‘ تب خبّابؓ جواب دیتے: ’’وہ تواللہ کے رسول ہیں (ﷺ)،اللہ کی طرف سے دینِ برحق لائے ہیں تاکہ اس کے ذریعے ہمیں گمراہی کے اندھیروں سے نکال کرہدایت کی روشنی تک لے جائیں‘‘۔ تب وہ مزیدزدوکوب کرتے،اورجب تھک جاتے توکہتے کہ ’’اچھاخبّاب!ہمارے ان بتوں لات اورعزیٰ کے بارے میں تم کیاکہتے ہو؟‘‘ تب خبّابؓ جواب دیتے: اِنّھمَا صَنَمَان ، أصَمّان ، أبکَمَان ، لَایَضُرّان ولَا ینفَعَان… یعنی’’یہ دونوں توبس پتھرکے بت ہیں،گونگے بہرے…نہ توکسی کوکوئی فائدہ پہنچاسکتے ہیں ،اورنہ ہی کسی کاکچھ بگاڑسکتے ہیں …‘‘۔ خبّاب کی طرف سے اپنے بتوں کے بارے میں یہ جواب سن کران کے غصے کی آگ مزیدبھڑک اٹھتی …اورتب وہ خبّابؓ کے خلاف اپنے ان مظالم کی آگ کوبھی مزید بھڑکانے میں لگ جاتے،اوراکثران دنوں وہ پہاڑی سنگریزوں کوآگ میں خوب تپاکر انہیں خبّاب ؓ کی کمرکے نیچے رکھ دیاکرتے ،تاکہ اس طرح ان دہکتے ہوئے سنگریزوں کی وجہ سے خبّاب رضی اللہ عنہ مستقل تکلیف میں مبتلارہیں۔ انہی دنوں حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کوستانے اورپریشان کرنے کی غرض سے مشرکینِ مکہ کو ایک نئی شرارت یہ سوجھی کہ وہ لوگ حسبِ سابق ان کی دکان سے مال توخریدلیاکرتے ، لیکن اب ادائیگی نہیں کیاکرتے تھے ،خبّابؓ ساراسارادن ان کے پیچھے گھومتے،ان سے رقم