اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
کاتقاضاکرتے ،مگران کے کانوں پرجوں تک نہ رینگتی،خبّاب کی مالکہ ام انمارانہیں برا بھلا کہتی اورجلدازجلدپیسے وصول کرکے اس کے حوالے کرنے کاحکم دیتی، اوریوں یہ سارادن ایک طرف اپنی مالکہ ٗاوردوسری طرف ان گاہکوں کے ہاتھوں پریشان رہاکرتے تھے۔
انہی دنوں ایک بارسردارانِ قریش میں سے ایک نامی گرامی شخص جس کانام عاص بن وائل تھا،خبّاب ؓ کوتنگ کرنے کی غرض سے اس نے بھی یہی حرکت کی…چنانچہ خبّاب کئی روز مسلسل اس سے رقم کاتقاضاکرتے رہے،آخرایک روزوہ کہنے لگا’’اے خبّاب !جب تک تم محمد(ﷺ)کے ساتھ کفرنہیں کروگے اُس وقت تک میں تمہیں یہ رقم ادانہیں کروں گا۔ اس پرخبّابؓ نے جواب دیاکہ ’’اے عاص! تم مرکردوبارہ زندہ ہوجاؤتب بھی میں یہ کام کرنے والانہیں ہوں‘‘اس پرعاص بولا’’اچھاتوپھرایساہی سہی،جب مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیاجائے گااوریہاں کی زندگی کی طرح وہاں کی زندگی میں بھی مجھے خوب مال واولادسے نوازاجائے گا ٗتب میں یہ رقم تمہیں وہاں اداکردوں گا‘‘
عاص بن وائل کی زبانی یہ جواب سن کرمجبوروبے بس خبّابؓ خاموش رہ گئے…تب اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں: {أفَرَأیتَ الَّذِي کَفَرَ بِاٰیَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَیَنَّ مَالاً وَّوَلَداً أطَّلَعَ الغَیبَ أمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَھداً کَلّا سَنَکتُبُ مَا یَقُولُ وَنَمُدُّ لَہٗ مِنَ العَذَابِ مَدًاً وَنَرِثُہٗ مَا یَقُولُ وَیَأتِینَا فَرداً}(۱)
یعنی’’بھلاتم نے اس شخص کوبھی دیکھاجس نے ہماری آیتوں کوماننے سے انکارکیاہے، اور یہ کہاہے کہ مجھے آل واولاد[آخرت میں] بھی ضرورملیں گے،کیااُس نے عالَمِ غیب میں
------------------------------
(۱)سورۃ مریم[۷۷۔۸۰]