اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
سردارانِ قریش کایہ خوف اوریہ اندیشہ غلط اوربے جانہیں تھا،کیونکہ حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کی اس بیباکی اورجرأت وہمت کانتیجہ یہ ظاہرہواکہ انہی دنوں دیکھتے ہی دیکھتے یکے بعد دیگرے متعددافرادنے دینِ اسلام قبول کرلیااورپھراس کااظہارواقراربھی کرتے رہے۔ اس نئی صورتِ حال کی وجہ سے سردارانِ قریش کی راتوں کی نینداُڑنے لگی،لہذااس بارے میں غوروفکراوراس خطرے کے سدِباب کی غرض سے انہوں نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں ابوجہل سمیت بڑے بڑے سردارانِ قریش شریک ہوئے،اورباہم مشاورت کے بعدطے کیاکہ اس بڑھتے ہوئے طوفان کوبہرصورت ابھی سے لگام دینے کیلئے ٹھوس اور فوری اقدامات کئے جائیں۔ چنانچہ ایک فوری فیصلہ یہ کیاگیاکہ آئندہ اگرکوئی شخص آباؤاجدادکے دین کوچھوڑکردینِ اسلام قبول کرے گاتواس کے خاندان کے سربراہ پریہ ذمہ داری عائدہوگی کہ کسی بھی طرح وہ اس شخص کاکوئی بندوبست کرے… چنانچہ اس نئے قانون کے تحت اب اُم انمارکے قبیلے ’’بنوخزاعہ‘‘کے سربراہ کی حیثیت سے اس کے بھائی سباع بن عبدالعزیٰ کی یہ ذمہ داری قرارپائی کہ کسی بھی طرح خبّابؓ سے نپٹناہے…یاتوخبّابؓ دینِ اسلام سے دستبرداری اختیارکرلیں…یاجان سے ہاتھ دھوبیٹھیں… تیسراکوئی راستہ نہیں۔ چنانچہ سخت گرمی کے موسم میں تپتی ہوئی دوپہرمیں جب سورج خوب آگ برسارہا ہوتا ، اور زمین شعلے اُگل رہی ہوتی …ایسے میں سباع اپنے آوارہ ساتھیوں کے ہمراہ حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کوہمراہ لئے ہوئے کھلی جگہ کی طرف کہیں نکل جاتا،اورپھریہ لوگ اس دہکتی ہوئی پتھریلی زمین پرخبّاب کولٹادیتے،ان کے جسم سے کپڑے بھی اتاردئیے جاتے،