اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
تب خبّابؓ نے کسی گھبراہٹ کے بغیرمکمل سکون واطمینان کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا’’میں بے دین نہیں ہوا،بلکہ میں نے اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ پرسچے دل سے ایمان قبول کرلیاہے،تمہارے بتوں سے لاتعلقی اختیارکرلی ہے،اورسچے دل سے یہ گواہی دی ہے کہ محمد(ﷺ) اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں‘‘ خبّابؓ کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ سِباع اوراس کے آوارہ ساتھیوں کے دلوں پربجلی بن کرگرے،اورانتہائی غضبناک حالت میں وہ سب ایک ساتھ خبّابؓ پرٹوٹ پڑے،پہلے لاتوں اورمکوں سے خوب زدوکوب کیا،پھراس لوہے کی بھٹی میں لوہا ٗسریا ٗہتھوڑا ٗ جوچیزبھی ان کے ہاتھ لگی …اس سے نہایت بے رحمی کے ساتھ اورانتہائی وحشیانہ طریقے سے دیر تک خبّابؓ پرخوب تشدداورمارپیٹ کرتے رہے…یہانتک کہ خبّابؓ بیہوش ہوکرزمین پرگرپڑے۔ اس واقعے کے بعدجلدہی تمام شہرمکہ میںجنگل کی آگ کی طرح یہ خبرپھیل گئی …ہرکوئی یہی کہنے لگاکہ ’’ذرہ خبّاب کی جرأت دیکھو،غلام ،بے بس اورلاچار…مکہ شہرمیں نہ اس کا قبیلہ ہے نہ خاندان ، نہ کوئی نصرت وحمایت کرنے والا،نہ مدافعت کرنے والا…مگراس کے باوجوداتنی بڑی جرأت …کہ اپنے مالکوں اورآقاؤں کے استفسارپرکچھ بھی چھپایا نہیں،سب صاف صاف بتادیا…علیٰ الاعلان اپنے قبولِ اسلام کااقرارواعتراف کیا، مزیدیہ کہ اپنے آقاؤں اوران کے آباواجدادکے دین کوغلط اورباطل بھی قراردیا…‘‘ تب سردارانِ قریش باہم یوں کہنے لگے کہ ’’اس نئے دین کے بارے میںجب ایک بے بس ٗکمزوراورلاچارغلام کی جرأت کایہ حال ہے… توآگے نہ جانے کیابنے گا؟ لہٰذایہ تو ہمارے لئے بڑے خطرے کی گھنٹی ہے‘‘۔