اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
دینِ اسلام قبول کرنے کامشورہ دیاکرتے،جوکوئی نیانیامسلمان ہوتایہ خودچل کراس کے گھرجاتے اوراسے قرآن کی تعلیم دیاکرتے…یوں ان کے قبولِ اسلام کی خوب شہرت ہوگئی(۱)اوریہ خبرجلدہی اُمِ انمارالخُزاعیہ تک بھی پہنچ گئی،جس پروہ انتہائی غضبناک ہوگئی ، اورکہنے لگی کہ ’’میرے غلام کی یہ جرأت ٗکہ میرادین چھوڑکراس نے کوئی اوردین اختیار کرلیا؟‘‘ تب وہ سیدھی اپنے بھائی سِباع بن عبدالعزیٰ کے پاس پہنچی ،صورتِ حال سے اسے مطلع کیا،اورپھردونوں نے اپنے قبیلے’’خُزاعہ‘‘کے کچھ اوباش اورآوارہ قسم کے نوجوانوں کوہمراہ لیااورخبّابؓ کی دکان کی طرف چل دئیے۔ وہاں پہنچنے کے بعدانہوں نے حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کولوہے کی بھٹی پراپنے کام (تلوارسازی)میںمشغول پایا،اورتب سباع نے نہایت غصے کے عالم میں اورانتہائی حقارت آمیزاندازمیں انہیںمخاطب کرتے ہوئے کہا’’اے غلام!تمہارے بارے میں ہم نے ایسی خبرسنی ہے جس کے بارے میں ہمیں ابھی تک یقین نہیں آرہا‘‘اس پرخبّابؓ نے کہا:’’کیاہے وہ خبر؟‘‘تب سباع بولا: ’’ہم نے سناہے کہ تم بے دین ہوگئے ہواوربنوہاشم کے اُس آدمی کے دین پرچل پڑے ہو؟‘‘ ------------------------------ (۱) چنانچہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کاجومشہورواقعہ ہے کہ ایک روزوہ انتہائی غصے کی حالت میں اپنی بہن فاطمہ بنت خطاب کے گھرپہنچے،اُس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہااوران کے شوہرسعیدبن زیدرضی اللہ عنہ دونوں قرآن پڑھ رہے تھے،تب حضرت عمرؓنے انہیں خوب زدوکوب کیاتھا…لیکن پھرقرآن کی چندآیات جب پڑھیں توانتہائی متأثرہوئے اوررسول اللہﷺکی خدمت میں حاضرہوکردینِ اسلام قبول کیا…الغرض جب حضرت عمرؓ اپنی بہن کے گھرپہنچے تھے ،اُس وقت یہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ ہی تھے جوان دونوں میاں بیوی کوقرآن پڑھارہے تھے،اورحضرت عمررضی اللہ عنہ کوآتادیکھ کرگھرمیں کہیں چھپ گئے تھے…!