اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
آجکل ایسے کلمات نکل رہے ہیں کہ گویاظلمتوں کے درمیان روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی ہوں… اورتب اس نوعمرخباب کو محمدبن عبداللہ(ﷺ)سے ملاقات کی تمنابے چین کرنے لگی… آخرایک روزاسی تمناکے ہاتھوں مجبورہوکرملاقات کیلئے نکل کھڑاہوا…نہایت بیتابی کے ساتھ خدمتِ اقدس میں حاضری دی،پہلی ملاقات میں ہی دل نے گواہی دی کہ محمدبن عبداللہ توواقعی اب اللہ کے رسول (ﷺ)ہیں…چنانچہ نہایت توجہ سے آپؐ کی مبارک گفتگوسنی،تب خباب کویوں محسوس ہونے لگاگویاد ل کی دنیامیں کوئی گلشن کِھل اٹھاہو… اورپھرنہایت بے صبری کے ساتھ عرض کیا’’اے اللہ کے رسول!آپ اپناہاتھ بڑھائیے، تاکہ میں آپ کے دستِ مبارک پربیعت کرسکوں‘‘ تب آپﷺنے دستِ مبارک بڑھایا،جس پرفوراًہی خبّاب نے کلمۂ حق’’أشہدأن لاالٰہ الااللہ،وأشہدأنّ محمداًرسول اللہ‘‘پڑھتے ہوئے آپؐ کے دستِ مبارک پربیعت کی… اور یوں یہ نوجوان خبّاب اب رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی’’ حضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ ‘‘بن گئے… جن دنوں خبّابؓ نے دینِ اسلام قبول کیاٗ تب دینِ اسلام کابالکل ابتدائی دورچل رہاتھا، اُس وقت تک صرف پانچ افرادمشرف باسلام ہوئے تھے،اوران کے بعداب چھٹے خوش نصیب خبّابؓ تھے۔ خبّابؓ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کے باوجوداپنے قبولِ اسلام کوکسی سے چھپایانہیں،لہٰذا انہیںجب بھی موقع ملتا ٗرسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوجاتے اورقرآن سیکھتے…اس سے بھی بڑھ کریہ کہ دوسروں کوبھی