اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
اس نوعمر غلام ’’خبّاب‘‘کے حوالے کردی۔ خباب نے جب اس دکان میں کام کاآغازکیاتودیکھتے ہی دیکھتے تمام شہرمکہ میں اس کی شہرت ہوگئی،اوراس کاکاروبارخوب ترقی کرنے لگا،جس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ خبّاب میں وہ تمام خوبیاں موجودتھیں جوترقی کیلئے ضروری ہوتی ہیں، یعنی خوب محنت اوردل لگاکرکام کرنا،اپنے کام میں خوب مہارت پیداکرناوغیرہ…مزیدیہ کہ امانت ودیانت اورہمیشہ راست بازی…اورپھریہ کہ اس نوعمری کے باوجوداس کے مزاج میں پختگی اورمتانت تھی،وہ ہمیشہ سنجیدہ اورباوقارنظرآیاکرتاتھا…نوعمری کے باوجوداس میں عمررسیدہ اورتجربہ کار دانشوروں کی خوبیاں تھیں،یعنی ہمت نوجوانوں جیسی ،جبکہ فہم وفراست اورحکمت ودانش عمررسیدہ اورجہاں دیدہ لوگوں جیسی… خَبّاب کودن بھرکی محنت ومشقت کے بعدجب فرصت کے چندلمحات میسرآتے اورلمحہ بھرکیلئے خلوت نصیب ہوتی تووہ اس سوچ میں کھوجاتاکہ آخراس معاشرے کاانجام کیاہوگاکہ جس میں ہرکوئی سرسے پاؤں تک ہرقسم کی برائیوں میں غرق ہے،یہ معاشرہ جس طرح جہالت اورگمراہی کے اندھیروں میں ڈوباہواہے …کیایہاں کبھی کوئی امیدکی کرن بھی طلوع ہوگی یانہیں…؟انہی سوچوں میں غرق نوجوان خباب کے دل میں بے اختیار یہ حسرت پیداہوتی کہ کاش مجھے اتنی زندگی نصیب ہوجائے کہ میں اپنی آنکھوں سے ان اندھیروں کی جگہ روشنی کوطلوع ہوتادیکھ سکوں… نوعمرخباب کی یہ بڑی خوش نصیبی تھی کہ اسے اس مقصدکیلئے زیادہ عرصہ انتظارنہیں کرناپڑا، ایک روزاسے خبرملی کہ خاندانِ بنوہاشم کاوہ چشم وچراغ جس کی شرافت اورامانت ودیانت کے چہارسوچرچے ہیں اورجس کانام محمدبن عبداللہ (ﷺ)ہے ،اس کی مبارک زبان سے