اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
نے ہم پراچانک حملہ کردیا،ہمیں شکست ہوگئی،تب وہ دشمن بڑی تعدادمیںہمارے جانور اور مویشی وغیرہ ہنکالے گئے…بہت سی عورتوں اوربچوں کوقیدی بنالیا،اسی مالِ غنیمت میں دیگربچوں کے ہمراہ میں بھی شامل تھا،اس کے بعدمجھے فروخت کردیاگیا،اورپھریکے بعددیگرے مسلسل مختلف لوگوں کے ہاتھوں بکتابکاتاآخریہاں مکہ پہنچ گیا…اورآج مکہ کے اس بازارسے آپ نے مجھے خریدلیاہے۔ یہ نوعمرغلام اپنی مالکہ ام انمارکے گھرمیں خدمت انجام دیتارہا،چندروزجب اسی طرح گذرگئے تواس عورت نے اپنے اس غلام کے بارے میں محسوس کیاکہ یہ توکافی سمجھدار معلوم ہوتاہے،فہم وفراست ٗعقلمندی اورذہانت کے آثاراس میں نمایاں ہیں…تب ام انمارنے فیصلہ کیاکہ اس قابل اورسمجھدارغلام سے محض گھریلوکام کاج لینے کی بجائے اسے کسی ایسے اچھے کام میں لگاناچاہئے جومیرے لئے مالی فائدے کاذریعہ بن سکے۔ چنانچہ ام انمارنے اپنے اس نوعمرغلام خبّاب کومکہ شہرکے ایک مشہورلوہارکے حوالے کیا جو اپنی بھٹی پرلوہے سے تلواریں تیارکیاکرتاتھا،اُس معاشرے میں ’’تلوار‘‘کی بہت بڑی اہمیت اوربہت زیادہ مانگ تھی،لہٰذااس شخص کایہ کاروبارخوب عروج پرتھا،یہی وجہ تھی کہ ام انمار نے اپنے اس نوعمرغلام کواس لوہارکے حوالے کیا،تاکہ یہ اس کاہاتھ بھی بٹائے اوروہاں رہتے ہوئے یہ کام بھی سیکھ لے…اورپھراس لوہارکی طرح ام انماربھی ایساہی منافع بخش کاروبار کرسکے… چنانچہ اس لوہارکے پاس رہتے ہوئے خبّاب نے بہت جلد’’تلوارسازی کے اس کام میں خوب مہارت حاصل کرلی،تب ام انمارنے کرائے پرایک دکان حاصل کی،تلوارسازی ٗ نیزتلواروں کی خریدوفروخت سے متعلق ضروری سازوسامان کاانتظام کیا،اوریہ دکان اپنے