اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
کاروان میں شامل ہوچکاتھااوراس کی روح میدانِ اُحُدسے روانہ ہوکراب جنت الفردوس کی بلندیوں کی جانب محوِپروازتھی… جنگ کے اختتام پررسول اللہﷺہرایک ایک شہیدکے پاس تشریف لائے…الوداع کہنے اوررخصت کرنے کی غرض سے …چنانچہ جب آپؐ مصعبؓ کے قریب پہنچے … توکیفیت یہ دیکھی کہ ان کے کفن کیلئے توکچھ بھی میسرنہیں ہے…کہیں سے ایک پھٹی پرانی اور خستہ حال چادرکاانتظام کیاگیا،لیکن وہ بھی اتنی چھوٹی تھی کہ سرڈھانکاجاتاتوپاؤں ننگے ہوجاتے،پاؤں ڈھانپے جاتے توسرننگاہوجاتا… رسول اللہﷺیہ منظردیکھ کرمزیدرنجیدہ وافسردہ ہوگئے،اورپھرفرمایا:’’سرڈھانپ دیا جائے ،اورپیروں پرنبات الاِذخر(وہاں اُگنے والی گھاس) ڈال دی جائے‘‘۔چنانچہ ایساہی کیاگیا۔ اس کے بعدرسول اللہﷺکچھ دیراسی طرح وہاں ساکت وجامدکھڑے ہوئے مصعبؓ کی جانب بہت غورسے دیکھتے رہے …گویاکہیں بہت دورخیالوں کی دنیامیں کھوگئے ہوں۔ اورپھرآپؐاپنے ساتھیوں کی جانب متوجہ ہوئے ،اورانہیں مخاطب کرتے ہوئے شہدائے اُحدکے بارے میںیہ کلمات ارشادفرمائے: أشھَدُ أنّ ھٰؤلَائِ شُھَدَائُ عِندَ اللّہِ یَومَ القِیَامَۃ ، فَأتُوھُم ، وَ زُورُوھُم ، وَالّذِي نَفسِي بِیَدِہٖ لَایُسلِّمُ عَلَیھِم أحَدٌ اِلیٰ یَومِ القِیَامَۃِ ، اِلّا رَدُّوا عَلَیہِ السَّلَام …(۱) یعنی’’میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ یہ (تمام شہدائے اُحد)قیامت کے دن اللہ کے سامنے شہداء کی حیثیت سے ہی پیش ہوں گے،لہٰذاتم ان کی زیارت کیاکرو،ان کے پاس ------------------------------ (۱)تاریخ الاسلام للذہبی[۲۰۷/۲] نیز: البدایہ والنہایہ لابن کثیر[۴۶/۴]