اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
کے قریب سے گذرتے ہوئے ان کے دائیں بازوپراپنی تلوارسے بھرپوروارکیا،جس کے نتیجے میں ان کابازوتن سے جداہوکردورجاگرا…بازوتوکٹ کردورجاگرا…مگروہ مبارک جھنڈاجورسول اللہﷺنے اپنے دستِ مبارک سے انہیں عنایت فرمایاتھا…اُس جھنڈے کی حرمت وعظمت پرکوئی آنچ نہ آنے دی،اسے سرنگوں نہونے دیا،فوراًہی بائیں ہاتھ میں وہ جھنڈاتھام لیا،تھوڑی ہی دیربعدوہی گھڑسواردوبارہ اپناگھوڑاسرپٹ دوڑاتا ہوا آیااورمصعبؓ کے بائیں بازوپراسی طرح بھرپوروارکیا…تب بایاں بازوبھی کٹ کردور جاگرا…تب مصعبؓ نے فوراًہی دونوں کٹے ہوئے بازؤوں میں جھنڈے کوجکڑکراپنے سینے سے لگالیا…دونوں بازوکٹ چکے تھے،خون بہت زیادہ بہہ چکاتھا،جس کی وجہ سے اب مصعبؓ لڑکھڑانے لگے تھے…لیکن جب تک جسم میں خون کاآخری قطرہ باقی تھا… مصعبؓ نے اس جھنڈے کوگرنے نہیں دیا…ایسے میں دشمنوں میں سے کوئی اوربدبخت آیا،اوراس نے پوری قوت سے اپنے نیزے کے ذریعے مصعبؓ پربھرپوروارکیا،یہ نیزہ مصعبؓ کے جسم کے آرپارہوگیا…تب وہ ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین پر گرگئے…مصعبؓ گرگئے…اورتب وہ جھنڈابھی گرگیا… تمام شہرمکہ میں سب سے زیادہ نفیس سمجھاجانے والایہ نوجوان …مکہ کے جس گلی کوچے سے گذرجاتا ٗوہ تمام گلی خوشبوسے مہک اٹھتی ،لوگ سمجھ جاتے کہ ابھی یہاں سے مصعب کاگذرہواہے…آج وہی نوجوان یہاں’’ اُحُد‘‘کے میدان میں خاک اورخون میں لت پت پڑاہواتھا،اللہ اوراس کے رسولؐکی محبت میں …نیزاللہ کے دین کی سربلندی کی خاطراس نوجوان نے اُس مصنوعی ٗاورعارضی وفانی نفاست ٗاورراحت وآرام کوخیربادکہتے ہوئے …حقیقی کامیابی اورلازوال سعادتمندی کواپنالیاتھا…اب وہ شہداء کے مبارک