اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
سے سرتوڑکوششوں میں مصروف تھے۔ اسلامی لشکرکے علمبردارحضرت مُصعب بن عمیررضی اللہ عنہ نے جب یہ منظردیکھاتوفوراًہی خطرے کوبھانپ لیااورمشرکینِ مکہ کے اس مذموم ارادے کوبخوبی سمجھ لیاکہ وہ اس موقع سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے رسول اللہﷺکوقتل کرڈالناچاہتے ہیں…اورتب مصعبؓ نے پوری قوت کے ساتھ جھنڈے کوبلندکرکے زوروشورکے ساتھ مسلسل لہراناشروع کیا، تاکہ دشمن یہ سمجھے کہ یہاں کچھ خاص معاملہ ہے ،اوراس طرح دشمن کی توجہ اِس طرف مبذول ہوجائے،کافی دیرتک وہ اسی طرح جھنڈے کوبلندکرکے خوب ہلاتے اورلہراتے رہے… جس کی وجہ سے اب واقعی دشمنوں کی توجہ ان پرمرکوزہونے لگی…اوردشمن کارش اب اِن کے اردگردبڑھتاگیا،مصعبؓ مسلسل ایک ہاتھ سے جھنڈالہراتے رہے ،اور دوسرے ہاتھ سے تلوارچلاتے رہے…لیکن اب دشمنوں کی تعدادبہت زیادہ بڑھ چکی تھی، اوراب دشمن اس حقیقت کوبھی سمجھ چکے تھے کہ یہاں رسول اللہ ﷺموجودنہیں ہیں ، نہ ہی کوئی اورخاص معاملہ ہے،بلکہ مصعبؓ ایسافقط اس لئے کررہے ہیں کہ اس طرح دشمن کی توجہ رسول اللہﷺکی بجائے بس اسی جانب مرکوزرہے۔ تاہم دشمنوں کواس موقع پریہ اندازہ بھی ہوگیاکہ اگرچہ رسول اللہﷺیہاں نہیں ہیں… البتہ یہ کہ آپؐتک پہنچنے کیلئے اوراپنے ناپاک منصوبے کوعملی جامہ پہنانے کیلئے پہلے راستے کی اس رکاوٹ کو ہٹانا ہوگا…اس دیوارکوگراناہوگا…یعنی پہلے اس نوجوان علمبردار مصعبؓ کاخاتمہ کرناہوگا… چنانچہ اس نازک ترین صورتِ حال میں جب مصعبؓ اس مقام پرتنہاتھے،دشمن ہرطرف سے ان پرٹوٹے پڑرہے تھے…اسی دوران ایک گھڑسوارآیااوربرق رفتاری کے ساتھ ان