اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
لیکن عین اس موقع پرایک بہت بڑی غلطی ہوئی ٗجس کی وجہ سے میدانِ کارزارکی تمام صورتِ حال یکسربدل کررہ گئی اورمسلمان اپنی یہ جیتی ہوئی جنگ ہارگئے،ہوایہ کہ وہ ’’تیرانداز‘‘جنہیں رسول اللہﷺنے ایک پہاڑی راستے پرمتعین فرمایاتھااورتاکیدکی تھی کہ’’ جنگ جوبھی رُخ اختیارکرے ٗلیکن جب تک میں نہ کہوں اُس وقت تک تم لوگ یہاں سے نہیںہٹوگے ‘‘۔ لیکن ان تیراندازوں سے اجتہادی غلطی ہوگئی،یہ سمجھے کہ جنگ تواب ختم ہی ہوچکی،دشمن فرارہورہاہے…لہٰذایہ لوگ وہ راستہ خالی چھوڑکروہاں سے اترآئے…جبکہ اُدھربھاگتے ہوئے دشمن کی نگاہ جب اس خالی راستے پرپڑی تواس نے موقع غنیمت جانا،اورعجلت میں اپنی صفوں کودوبارہ منظم کرتے ہوئے اس راستے سے (جوکہ مسلمانوں کے عقب میں تھا) اچانک بھرپورحملہ کردیا… مسلمان اس اچانک اوربالکل غیرمتوقع حملے کیلئے بالکل تیارنہیں تھے،لہٰذانتیجہ یہ ہواکہ اس حملے کی وجہ سے مسلمان فوری طوری پرسنبھل نہ سکے،انہیں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، ہر طرف بہت زیادہ افراتفری پھیل گئی،اورتب وہ اپنی صفیں دوبارہ منظم ومرتب نہ کرسکے،یوں محض چندافرادکی غلطی کی وجہ سے سبھی کواتنی بڑی شکست اوراتنی بڑی پریشانی سے دوچار ہونا پڑا ۔ جب یہ افراتفری اپنے عروج پرتھی ٗتب رسول اللہﷺکے ساتھ بہت کم اِکادُکاچندمسلمان رہ گئے تھے،اس موقع سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے مشرکینِ مکہ نے اپنی تمام توجہ اوراپنی پوری قوت اُسی جانب مرکوزکردی تھی کہ جہاں آپؐ موجودتھے،وہ بہرصورت اورہرقیمت پر اس نادرترین موقع سے مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے (نعوذباللہ)آپؐ کوقتل کردینے کی غرض