اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
تیارکیا،تاکہ اب مسلمانوں کوہمیشہ کیلئے صفحۂ ہستی سے مٹادیاجائے،اوراس مقصدکیلئے نہایت زوروشورکے ساتھ تیاریاں بھی شروع کردیں،نتیجہ یہ ہواکہ محض اگلے ہی سال یعنی ۳ھ میں مشرکینِ مکہ اپنے بڑے لشکرِجرارکے ہمراہ …اوراپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ مدینہ آدھمکے…اوراُحُدپہاڑکے دامن میں پڑاؤڈالنے کے بعدمسلمانوں کے خلاف بڑی جنگ کیلئے وہاں صف آراء ہوگئے۔ دوسری طرف رسول اللہﷺاورآپؐ کے جاں نثارساتھی بھی اپنی تیاری کے ساتھ اُحُد پہاڑ کے دامن میں پہنچے،اپنی صفیں منظم کیں،رسول اللہﷺاس موقع پرصفوں کے درمیان گھوم پھرکرخودضروری ہدایات دیتے رہے،اورپھراس کام سے فراغت کے بعدآپؐ مخصوص نگاہوں سے اپنے تمام جاں نثاروں کی جانب بغوردیکھنے لگے،گویاکسی بہت اہم اورخاص کام کیلئے ان میں سے کسی کاانتخاب مقصودہو…اورپھرآپؐ کی نگاہیں اپنے ان تمام جاں نثاروں کی اس برگزیدہ ترین جماعت میں سے مُصعب بن عمیررضی اللہ عنہ پر مرکوز ہو گئیں ، آپؐ نے انہیں اپنے قریب بلایا،اورپھراپنے دستِ مبارک سے انہیںعَلَم عطاء فرمایا،جوکہ یقینابہت بڑاشرف اوراعزازتھا،چنانچہ اس اہم ترین اورتاریخی غزوۂ اُحُدکے موقع پر نوجوان مصعبؓ اسلامی لشکرکے علمبردارتھے،اوراس عظیم ترین شرف کیلئے انہیں خودرسول اللہ ﷺنے منتخب فرمایاتھا۔ جنگ کاآغازہوا،اِکادُکاانفرادی جھڑپوں کے بعددونوں جانب سے عام یلغارہوئی،خوب گھمسان کارَن پڑا،مسلمان ہرلمحہ فتح سے قریب ترہوتے چلے جارہے تھے،جبکہ مشرکینِ مکہ کی شکست وپسپائی کے آثارواضح طورپرنمایاں ہوچلے تھے ،اوروہ اب میدان چھوڑکرراہِ فراراختیارکررہے تھے۔