اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
بعدرسول اللہﷺودیگرتمام مسلمان مختلف گروہوں کی شکل میں رفتہ رفتہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچنے لگے۔ مشرکینِ مکہ ابتداء میں توخوشیاں مناتے رہے کہ چلواچھاہوا،مسلمان ہماراشہرچھوڑکرچلے گئے…لیکن ان کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی،کیونکہ جب انہیں یہ اندازہ ہونے لگاکہ مسلمان ان کے شکنجے سے نکلنے کے بعداب وہاں مدینہ میں سکون واطمینان کی زندگی بسر کر رہے ہیں …توان سے یہ برداشت نہوسکا…راتوں کی نیندیں اُڑنے لگیں…اس سے بھی بڑھ کرجوچیزان کیلئے بڑی تشویش کاباعث بنی ٗوہ یہ کہ اُس زمانے کی وہ مشہورومعروف تجارتی شاہراہ جس پران کے تجارتی قافلوں کی مکہ سے ملکِ شام کے مابین آمدورفت ہوا کرتی تھی…وہ شاہراہ مدینہ کے قریب سے گذرتی تھی…لہٰذامدینہ میں مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی قوت اس شاہراہ کیلئے باعثِ خطرہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مشرکینِ مکہ نے فیصلہ کیاکہ ایسی نوبت آنے سے قبل ہی مدینہ میں قوت پکڑتے ہوئے ان مسلمانوں کوکچل دیاجائے…چنانچہ اس جنونی کیفیت میں ہجرت کے اگلے ہی سال (یعنی ۲ھمیں) وہ بڑے لشکرکے ساتھ مدینہ آپہنچے…’’بدر‘‘کے مقام پرحق وباطل کے درمیان اولین معرکے کی نوبت آئی…جس کے نتیجے میں مشرکین اپنی تمامترعددی برتری اورہرقسم کے سامانِ حرب وضرب کی فراوانی کے باوجودبدترین شکست وہزیمت سے دوچارہوئے،پسپائی ٗذلت ورسوائی ٗاورجگ ہنسائی ان کامقدربنی،اوریوں شکست کاغم اوررسوائی کاداغ دلوں پرلئے ہوئے وہ وہاں سے واپس مکہ کی جانب لوٹ گئے۔ ٭…البتہ اس رسواکن شکست کے بعداپنے شہرمکہ واپس پہنچتے ہی اپنی اس شکست ورسوائی کابدلہ لینے کی غرض سے انہوں نے مسلمانوں پربہت بڑے پیمانے پرحملے کامنصوبہ