اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
تھیں، جس پرابوہریرہؓ بہت ہی دکھی اورپریشان رہاکرتے تھے،اورہمیشہ بڑی ہی محبت اور احترام کے ساتھ انہیں دینِ اسلام قبول کرلینے کی دعوت دیاکرتے تھے۔ انہی دنوں ایک روزجب حضرت ابوہریرہ ؓنے حسبِ معمول اپنی والدہ کودینِ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ٗ تویہ دعوتِ حق قبول کرنے کی بجائے وہ کافی ناراض ہوگئیں،مزیدیہ کہ اس موقع پرانہوں نے کوئی نامناسب بات بھی کہی…جس پرابوہریرہؓ کوبہت ہی صدمہ ہوا، فوراًوہاں سے روانہ ہوئے ،اورزاروقطارروتے ہوئے رسول اللہﷺکی خدمت میں پہنچے،رسول اللہﷺنے جب ان کی یہ کیفیت دیکھی تودریافت فرمایاکہ ’’اے ابوہریرہ ! آپ کیوں رورہے ہیں؟‘‘تب جواب میں انہوں نے آپؐ کے سامنے تمام ماجرا سنا ڈالا…اورپھرگلوگیرآوازکے ساتھ عرض کیاکہ ’’اے اللہ کے رسول!آپ میری والدہ کیلئے دعاء کیجئے کہ اللہ ان کے دل کودینِ اسلام کی طرف راغب کردے‘‘۔تب آپؐ نے ان کی والدہ کیلئے ہدایت کی دعاء فرمائی۔ اس کے بعدحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ واپس گھرکی طرف چل دئیے،وہاں پہنچ کر دیکھاکہ گھرکادروازہ بندہے،اورکچھ پانی بہنے کی آوازبھی سنائی دے رہی تھی،جیسے نہاتے دھوتے وقت پانی کی آوازآیاکرتی ہے…اورجب یہ اندرداخل ہونے لگے تواندرسے والدہ کی آوازآئی جو کہہ رہی تھیں’’ابوہریرہ!اسی جگہ رکے رہو،ابھی اندرمت آنا‘‘ تب یہ وہیں رک گئے،پھرکچھ دیربعدآوازآئی ’’ابوہریرہ!اب اندرچلے آؤ‘‘تب یہ اندرچلے گئے۔ جونہی اندرداخل ہوئے تودیکھاکہ ان کی والدہ نے نہادھوکرصاف ستھرے کپڑے پہن رکھے ہیں،اورانہیں دیکھتے ہی انہوںنے بآوازِبلندیہ الفاظ کہے: أشہدأن لاالٰہ الااللہ، وأشہدأن محمداًرسول اللہ‘‘۔