اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
البتہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے نام ’’عبدالرحمن ‘‘کی بجائے اپنی کنیت ’’ابوہریرہ‘‘ سے ہمیشہ کیلئے مشہورہوگئے،’’ہریرہ‘‘کے معنیٰ ہیں ’’بلی‘‘دراصل ان کی ایک بلی تھی ، جوانہیں بہت ہی پیاری تھی،اکثراسے اپنے ساتھ ہی رکھتے تھے،لہٰذااسی نسبت سے ’’ابوہریرہ‘‘یعنی ’’بلی والے‘‘ مشہورہوگئے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ھمیں جب پہلی باراپنے علاقے تہامہ سے مدینہ آئے ٗ تب یہ اٹھائیس سال کے جوان تھے۔اس کے بعدسے انہوں نے خودکورسول اللہﷺکی صحبت ومعیت ٗ علمی استفادہ ٗ کسبِ فیض ٗ اوراللہ کادین سیکھنے کیلئے مکمل طورپروقف کردیا۔ چونکہ اُس وقت تک ان کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی ٗ لہٰذاکوئی گھریلوذمہ داری بھی نہیں تھی،اس لئے ’’مسجدِنبوی‘‘ کواپنامستقل ٹھکانہ بنایا،مسجدسے بالکل متصل ہی ایک ’’صفہ‘‘ یعنی چبوتراتھا،جہاں غریب اورمسکین قسم کے مسلمان مقیم رہتے تھے،جنہوں نے اپنی زندگیاں کسبِ فیض اورتحصیلِ علمِ دین کی خاطروقف کررکھی تھیں،ان کی رہائش گاہ بھی وہی تھی ٗعبادت گاہ بھی وہی تھی ٗاوردرس گاہ بھی وہی تھی،اوران کے استاداورمعلم ومربی خود رسول اللہﷺ تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی مسجدِنبوی سے متصل اس ’’صفہ‘‘کواپنامسکن بنایا، اور شب وروزاللہ کی عبادت میں ٗ نیزتحصیلِ علمِ دین میں مشغول ومنہمک رہنے لگے،چونکہ اہل وعیال توتھے نہیں ٗ لہٰذافرصت بھی خوب میسرتھی۔ البتہ ان کی صرف ایک عمررسیدہ ماں تھیں ٗ جن کانام ’’اُمیمہ‘‘تھا،اوروہ دینِ نصرانیت کی پیروکارتھیں،،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت کوشش کیاکرتے تھے کہ ان کی والدہ بھی دینِ اسلام قبول کرلیں،لیکن ان کی والدہ اپنادین ترک کرنے پرکسی صورت آمادہ نہیں