اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
روانہ ہوا۔ دوسری جانب رسول اللہﷺکومکہ میں جب یہ اطلاع ملی توآپؐنے بھی وہیں بیٹھ کران کاانتظارکرنے کی بجائے اپنے بارہ ہزارجاں نثاروں کے ہمراہ ان کی جانب کوچ کرنے کافیصلہ فرمایا،چنانچہ مکہ اورطائف کے درمیان ’’حُنین‘‘نامی مقام پردونوں لشکروں کاآمناسامناہوا۔ایک تودشمن کی تعدادمسلمانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی،مزیدیہ کہ انہوں نے ایک تنگ وتاریک پہاڑی درے میں بڑی تعدادمیں تیراندازبٹھارکھے تھے،عام یلغارسے قبل یہ صورتِ حال پیش آئی کہ مسلمان جب وہاں سے گذرنے لگے تو ان چھپے ہوئے تیراندازوں نے مسلمانوں پرشدیدتیراندازی شروع کردی ،مسلمان اس اچانک اوربالکل ہی غیرمتوقع حملے کی وجہ سے افراتفری کاشکارہوگئے…اچانک تیروں کی بارش،نامعلوم اورانتہائی تنگ وتاریک پہاڑی راستے…لہٰذاابتداء میں مسلمانوں کو بڑی پریشانی کاسامناکرناپڑا،ان کی صفوں میں نظم وضبط برقرارنہ رہا،آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ بھی برقرارنہ رہ سکا…اوریوں وہ سب ایک دوسرے سے بے خبر ان انجان اورگمنام راستوں میںاِدھراُدھربکھرگئے…مزیدیہ کہ اتنے بڑے پیمانے پر افراتفری اوربھاگ دوڑ کی وجہ سے گردوغبارکاایساطوفان اٹھاکہ دن میں رات کاگمان ہونے لگا،یہ چیزمزیدسراسیمگی وبدحواسی کاسبب بنی… ایسے میں جب رسول اللہﷺکے ہمراہ محض گنتی کے چندافرادہی رہ گئے تھے…ان میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے،جنہوں نے اس موقع پرآپؐکی حفاظت وحمایت کی خاطربے مثال جرأت اوربڑی استقامت کامظاہرہ کیا،مزیدیہ ان کی آوازقدرتی طور پرچونکہ کافی بلندتھی ،لہٰذااس موقع پروہ بارباربآوازِبلندپکارتے رہے کہ’’مسلمانو!دیکھو