اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
ساتھ خفیہ خط وکتابت بھی کیاکرتے،جس میں مکہ کی صورتِ حال ٗ مشرکینِ مکہ کی جنگی تیاریاں ٗ ودیگرضروری اطلاعات ومعلومات بہم پہنچایاکرتے…جب انہیں مسلمانوں کی کسی کامیابی کے بارے میں علم ہوتاتوبہت خوش ہوتے،اورجب ان کی کسی ناکامی کی اطلاع ملتی توانتہائی رنجیدہ وافسردہ ہوجایاکرتے…اسی کیفیت میں وقت گذرتارہا… حتیٰ کہ سن آٹھ ہجری میں فتحِ مکہ سے کچھ قبل حضرت عباسؓ ہجرتِ مدینہ کی غرض سے مکہ شہرسے نکلے ، اورمدینہ کی جانب روانہ ہوگئے،لیکن راستے میں مکہ شہرسے کچھ فاصلے پرہی ان کی ملاقات رسول اللہﷺسے ہوگئی ٗ جواس موقع پراپنے دس ہزارجاں نثاروں کی قیادت کرتے ہوئے مدینہ سے مکہ کی جانب پیش قدمی فرمارہے تھے…اورتب اس ملاقات کے موقع پرانہوں نے باقاعدہ طورپراپنے قبولِ اسلام کااعلان کیا،اورآپؐکے لشکرمیں شامل ہوکراب واپس مکہ کی طرف گامزن ہوگئے۔ بعض مؤرخین کے بقول حضرت عباسؓ بہت پہلے ہی دینِ اسلام دل سے قبول کرچکے تھے…تاہم اس چیزکووہ چھپاتے تھے،البتہ اب فتحِ مکہ کے موقع پرجب مسلمانوں کوغلبہ نصیب ہوا تو انہوں نے اپنے قبولِ اسلام کاکھل کراعلان کردیا۔ فتحِ مکہ کے فوری بعدتاریخی ’’غزوۂ حنین‘‘ پیش آیا،مکہ سے تقریباًاسی کلومیٹرکے فاصلے پر واقع طائف شہرمیں ’’ہوازن‘‘اورثقیف‘‘نامی دوبڑے قبائل آبادتھے،انہیںجب مسلمانوں کے ہاتھوں فتحِ مکہ کی خبرموصول ہوئی تویہ اندیشہ ہونے لگاکہ کہیں مسلمان مکہ کے بعداب ہمارے شہرطائف کی جانب متوجہ نہوجائیں…لہٰذاانہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ قبل اس کے کہ ایسی نوبت آئے ٗ ہمیں خودہی مکہ پہنچ کرمسلمانوں پرحملہ کردیناچاہئے ، چنانچہ اس مقصدکیلئے چوبیس ہزارجنگجؤؤں پرمشتمل ان کالشکرِجرارطائف سے مکہ کی جانب