اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
حیرت زدہ رہ گئے…ان میں سے کچھ لوگ یوں کہنے لگے کہ اتنی بڑی شکست کے بعد مسلمان کبھی ہمارے تعاقب کی جرأت نہیں کرسکتے،لہٰذاضرورانہیں کہیں سے کوئی بڑی بھرپورمددملی ہے ،لہٰذایہ کوئی تازہ دم دستہ ہمارے تعاقب میں چلے آرہاہے… اور عین ممکن ہے کہ اس کے پیچھے مزیددستے بھی چلے آرہے ہوں… الغرض مسلمانوں کے اس بروقت اقدام کی وجہ سے مشرکینِ مکہ پرمسلمانوں کی طرف سے خوف اوررعب طاری ہوگیا،جس کی وجہ سے انہوں نے یہ طے کیاکہ ہمیں راستے میں کہیں رکے بغیرجلدازجلدواپس مکہ پہنچناچاہئے…چنانچہ اب انہوں نے اپنی واپسی کی رفتار مزیدتیزکردی اورسیدھے مکہ پہنچ کرہی دم لیا…اوریوں مسلمان ان کے دوبارہ حملہ آور ہوجانے کے اندیشے سے محفوظ ومطمئن ہوگئے۔ ٭غزوۂ احزاب (خندق)کے موقع پرجب مشرکینِ مکہ ٗنیزدیگربہت سے عرب قبائل مسلمانوں پرحملہ آورہونے کی غرض سے بہت بڑی تعدادمیںمدینہ آپہنچے تھے،کیفیت یہ تھی کہ جدھرنگاہ اٹھتی تھی بس چہارسودشمن کی فوج ہی نظرآتی تھی…اس بیرونی دشمن کی طرف سے لاحق خطرے کے علاوہ مزیدیہ کہ اندرونی خفیہ دشمنوں ٗبالخصوص یہودِمدینہ کے طاقتورقبیلے ’’بنوقُریظہ‘‘کی طرف سے مسلمانوں کوبہت زیادہ تشویش لاحق تھی،ایسی اطلاعات بھی مل رہی تھیں کہ اس قبیلے نے مشرکینِ مکہ کے ساتھ خفیہ معاہدہ کررکھاہے، اور یہ منصوبہ تیارکیاگیاہے کہ جب مشرکینِ مکہ کی طرف سے مسلمانوںپربھرپورحملہ کیاجا ئے گا، اورہرطرف خوب افراتفری ہوگی…تب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدینہ شہرکے اندر یہ یہودی فتنہ برپاکریں گے،مسلمانوں کے گھروں پرحملے کریں گے ،ان کی املاک کولوٹیں گے ، نیزان کی عورتوں اوربچوں کوقتل کرڈالیں گے…