اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
٭غزوۂ اُحدکے موقع پرجب مسلمان اپنی ہی ایک غلطی کی وجہ سے جیتی ہوئی جنگ ہارگئے تھے،اورہرطرف افراتفری پھیل گئی تھی،مسلمانوں کوبہت زیادہ پریشانی کاسامناکرناپڑاتھا، اوروہ سب شدیدصدمے کی کیفیت سے دوچارتھے… ایسے میں جنگ کے خاتمے کے فوری بعدمسلمانوں کویہ تشویش لاحق ہوئی کہ ہماری اس کیفیت اورشکست وریخت کومحسوس کرتے ہوئے ایسانہوکہ مشرکینِ مکہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی خاطردوبارہ ہم پرحملہ آورہوجائیں…لہٰذااس چیزکے سدِباب کی غرض سے رسول اللہﷺنے اپنے اصحاب سے مشاورت اورغوروفکرکے بعدیہ فیصلہ فرمایاکہ مسلمانوں کاایک دستہ مشرکینِ مکہ کے تعاقب میں روانہ کردیاجائے تاکہ ان پرخوف طاری ہو جائے… ظاہرہے کہ اس وقت مسلمان جس جسمانی ونفسیاتی کیفیت سے دوچارتھے ،اورجس طرح انہیں شکست وریخت کاسامناتھا…وہ سبھی زخموں سے چورتھے…ایسے میں اب دوبارہ اسی دشمن کے تعاقب میں نکل کھڑے ہونا…یہ بہت دل گردے کا…اورانتہائی جان جوکھوں کاکام تھا… لیکن بہرحال جب رسول اللہﷺنے اس چیزکافیصلہ فرماہی لیا…تواب سترمسلمانوں کاایک دستہ فوری طورپرتیارکیاگیااوراس کی قیادت کیلئے آپؐنے حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ کومنتخب فرمایا،چنانچہ یہ دستہ اُحدکے میدان سے ہی فوری طورپرمشرکینِ مکہ کے تعاقب میں روانہ ہوگیا… مکہ کی طرف پلٹتے ہوئے مشرکین نے جب مسلمانوں کے اس دستے کواپنے تعاقب میں آتادیکھا…تووہ مسلمانوں کی ہمت وشجاعت ٗ بلندحوصلہ ٗ اورعزیمت واستقامت دیکھ کر