اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
الخطاب،نیز عبداللہ بن زبیربن العوام (رضی اللہ عنہم اجمعین) پیش پیش تھے (۱) اسی صورتِ حال میں وہ دن گذرتارہا،سورج حسبِ معمول اپناسفرطے کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتارہا،آخر سورج ڈھلنے لگا…پھرعصرکاوقت ہوا…اورپھرجب افطارکاوقت بھی قریب آنے لگا…تونہ جانے کہاں سے کسی باغی کاچلایاہواتیرفضاء میں اُڑتاہواآیا…اورحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دروازے پرحفاظت کی غرض سے موجودنوجوانوں میں سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کوآلگا،جس پروہ زخمی ہوگئے اورخون بہنے لگا…یہ منظردیکھ کرباغی گھبراگئے اورباہم یوں سرگوشیاں کرنے لگے کہ حسن (رضی اللہ عنہ) زخمی ہوچکے ہیں ، نواسۂ رسولؐہونے کی وجہ سے ان کی خاص قدرومنزلت ہے ،نیزان کے خاندان بنوہاشم کابھی بہت زیادہ اثرورسوخ ہے…لہٰذاان کازخمی ہوجاناہمارے لئے خطرے کی گھنٹی ہے…عین ممکن ہے کہ مدینہ کے سبھی باشندے اب مشتعل ہوجائیں ، اورہمارے خلاف کوئی بڑافیصلہ کن اقدام کریں،لہٰذااب مزیدتاخیرہمارے حق میںبہتر نہیں ہوگی، جو کرنا ہے صورتِ حال بگڑنے سے قبل…بس ابھی فوری طورپرکرلیاجائے۔ اس باہمی مشاورت کے بعدفوری طورپرکچھ باغی عقبی راستے سے خفیہ طورپرحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھرسے متصل ابوحزم انصاری رضی اللہ عنہ کے گھرمیں داخل ہوئے، اورپھروہاں سے دیوارپھلانگتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھرکی چھت پرجاپہنچے…اورپھروہاں سے گھرکے اندرونی حصے میں اترگئے…باہرکسی کوکانوں کان خبرتک نہ ہوسکی ،مہاجرین وانصارمیں سے متعدداکابرصحابۂ کرام کے نوجوان بیٹے بدستور وہاںدروازے پرپہرہ دیتے رہے…لیکن اندرکی صورتِ حال کسی کے وہم وگمان میں بھی ------------------------------ (۱)البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر،جلد:۱۰ ،صفحہ ۲۹۸۔بتحقیق الدکتورعبداللہ بن عبدالمحسن الترکی۔دارہجرللطباعۃ والنشر۔