جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
لیے صفات بیان کیے ہیں۔شرط تو وہ ہوتی ہے جس کے فوت ہونے سے مشروط بھی فوت ہو جائے حالانکہ اگر امام میںیہ صفات نہ بھی ہوں تو نماز میں کوئی خلل نہیں آتا۔ صرف بہتری کے لیے ان صفات کا ذکر کیا ہے احادیث میں امامت کے لیے جو صفات بیان کی گئی ہیں اگر ان صفات میں مساوی ہوں تو فقہائے کرام نے احقیت امامت کے لیے چند صفات بیان کیے ہیں ان صفات میں سے غیر مقلدین نے اشتہار مذکور میں دو صفت نقل کر کے اعتراض کیا ہے کہ انہیں قرآن و سنت سے ثابت کریں ہم نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ غیر مقلدین کا یہ انداز غلط ہے کیونکہاہل السنت والجماعت کے چار دلائل ہیں لہٰذا فقہائے کرام نے احادیث کو مدنظر رکھتے ہوئے قیاس کر کے مذکورہ صفات ذکر کیےیہ صفات قیاس ہی سے نہیں بلکہ بعض احادیث سے بھی ثابت ہیں۔ حدیث نمبر1: جیسا کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیارکم فانہم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم طبرانی کبیر ج20 ص328، دار قطنی، مستدرک حاکم، مرقاۃ ج3 ص196 اگر تمہیں اچھا لگتا ہے کہ تمہاری نماز قبول ہو تو چاہیے کہ تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں سے بہتر ہوں کیونکہ امام تمہارے نمائندے ہوتے ہیں تمہارے اور خدا کے درمیان۔ حدیث نمبر2: اسی طرح حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعا لی عنہماحضرت محمدعلیہ الصلوۃ